تکنیکی تجزیے میں استعمال ہونے والے 5 بنیادی اشارے
امواد کی فہرست
تعارف
1. متعلقہ قوت کا انڈیکس (RSI)
2. متحرک اوسط (MA)
3. متحرک اوسط کی موافقت و تضاد (MACD)
4. Stochastic RSI (StochRSI)
5. بولینجر بینڈز (BB)
اختتامی خیالات
تکنیکی تجزیے میں استعمال ہونے والے 5 بنیادی اشارے
ہومآرٹیکلز
تکنیکی تجزیے میں استعمال ہونے والے 5 بنیادی اشارے

تکنیکی تجزیے میں استعمال ہونے والے 5 بنیادی اشارے

جدید
Published Mar 2, 2020Updated May 11, 2022
7m

TL؛DR

تجربہ کار تکنیکی تجزیہ کاران، اشاروں کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر پلیئر ان ٹولز کا انتخاب کرے گا جو ان کی کارکردگی کے منفرد انداز کے لیے موزوں ہو، تاکہ وہ یہ سیکھ سکیں کہ اپنے ہنر میں مہارت کیسے حاصل کی جائے۔ کچھ لوگ مارکیٹ کی رفتار کو ملاحظہ کرنا پسند کرتے ہیں، جبکہ دوسرے مارکیٹ کے شور کو فلٹر کرنا یا اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن کون سے تکنیکی اشارے بہترین ہیں؟ اس حوالے سے ہر ٹریڈر کی رائے مختلف ہو گی۔ جو اشارہ ایک تجزیہ کار کے مطابق حتمی ہو گا، وہیں دوسرا تجزیہ کار اس کو مکمل طور پر مسترد کر دے گا۔ تاہم، ان کی کچھ نہایت ہی مقبول اقسام موجود ہیں، جو ہم نے ذیل میں بیان کی ہیں (RSI، MA، MACD، StochRSI، اور BB)۔

یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ وہ کیا ہیں اور ان کو کیسے استعمال کیا جائے؟ تو پڑھتے رہیں۔


تعارف

ٹریڈرز کسی اثاثے کی قیمت کی حرکات کے حوالے سے اضافی ادراک حاصل کے لیے تکنیکی اشاروں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ اشارے مارکیٹ کے موجودہ ماحول میں پیٹرنز کی شناخت اور خرید یا فروخت کے سگنلز کی نشاندہی کو آسان بناتے ہیں۔ اشاروں کی کئی مختلف اقسام ہیں، اور یہ یومیہ ٹریڈرز، سوئنگ ٹریڈرز، اور بعض اوقات طویل مدتی سرمایہ کاران کی جانب سے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ بعض پیشہ ور تجزیہ کاران اور تجربہ کار ٹریڈرز اپنے ذاتی اشارے تک تخلیق کرتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں، ہم تکنیکی تجزیوں کے چند مقبول ترین اشاروں کی مختصر تفصیلات فراہم کریں گے جو کسی بھی ٹریڈر کے مارکیٹ کے تجزیے کی ٹول کٹ میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔


1. متعلقہ قوت کا انڈیکس (RSI)



RSI رفتار کا اشارہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آیا کوئی اثاثہ ضرورت سے زیادہ خریدا یا ضرورت سے زیادہ فروخت کیا گیا ہے۔ یہ قیمت میں حالیہ تبدیلیوں کی شدت کی پیمائش کرتے ہوئے یہ عمل انجام دیتا ہے (معیاری سیٹنگ پِچھلی 14 مدتوں پر مشتمل ہے – یعنی 14 دن، 14 گھنٹے، وغیرہ)۔ ڈیٹا پھر اوسیلیٹر کے طور پر ڈسپلے کیا جاتا ہے جس کی مالیت 0 اور 100 کے درمیان ہو سکتی ہے۔

چونکہ RSI رفتار کا اشارہ ہے، لہٰذا یہ وہ شرح (رفتار) ظاہر کرتا ہے جس پر قیمت تبدیل ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر قیمت کے ساتھ ساتھ رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہو، تو بڑھتا رجحان مضبوط ہے، اور زیادہ سے زیادہ خریدار اس میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر قیمت کے ساتھ ساتھ رفتار بھی گھٹ رہی ہو، تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ جلد ہی فروخت کنندگان مارکیٹ پر غلبہ پا سکتے ہیں۔

RSI کی روایتی تشریح یہ ہے کہ جب یہ 70 سے اوپر ہو، تو اثاثہ ضرورت سے زیادہ خریدا گیا ہے، اور جب یہ 30 سے نیچے ہو، تو یہ ضرورت سے زیادہ فروخت شدہ ہے۔ اسی لیے، انتہائی قدریں قیمت میں متوقع تبدیلی یا کمی کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ اس کے باوجود، بہتر ہے کہ ان قدروں کو خرید یا فروخت کے براہ راست سگنلز نہ سمجھا جائے۔ تکنیکی تجزیے (TA) کی دیگر بہت سے تکانیک کے ساتھ، RSI غلط یا گمراہ کن سگنلز فراہم کر سکتا ہے، لہذا بہتر ہے کہ ٹریڈ میں داخل ہونے سے قبل دیگر عوامل کو زیر غور لایا جائے۔
مزید جاننے کے لیے بے تاب ہیں؟ متعلقہ قوت کے انڈیکس (RSI) پر ہمارا آرٹیکل ملاحظہ کریں۔


2. متحرک اوسط (MA)



متحرک اوسط مارکیٹ کے شور کو فلٹر کرتے ہوئے رجحان کی سمت کو نمایان کر کے قیمت کی حرکات کو ہموار بناتی ہے۔ چونکہ یہ قیمت کے گزشتہ ڈیٹا پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے اس کا شمار گزشتہ اشارے میں ہوتا ہے۔

معمولی متحرک اوسط (SMA یا MA)، اور تیز رفتار متحرک اوسط (EMA) عام طور پر سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے دو متحرک اوسط ہیں۔ SMA کو متعین مدت کی قیمت کا ڈیٹا لے کر اس کا اوسط نکالتے ہوئے پلاٹ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، 10 روزہ SMA گزشتہ 10 دنوں کی اوسط قیمت کا حساب لگا کر پلاٹ کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب، EMA، کا حساب اس انداز میں لگایا جاتا ہے جو موجودہ قیمت کے ڈیٹا کو مزید اہمیت دیتا ہے۔ یہ اس کو موجودہ قیمت کی حرکات کے لیے مزید متعامل بناتی ہے۔

جیسا کہ ہم نے تذکرہ کیا، متحرک اوسط کا شمار گزشتہ اشاروں میں ہوتا ہے۔ جتنی طویل مدت ہو گی، گزشتہ اشارہ بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ اسی لیے، 200 روزہ SMA ایک 50 روزہ SMA کے مقابلے میں قیمت کی موجودہ حرکات پر سست رفتاری سے رد عمل دکھائے گا۔

ٹریڈرز اکثر اوقات مارکیٹ کے موجودہ رجحان کی پیمائش کے لیے چند مخصوص اوسطوں کے ساتھ قیمت کے تعلق کو استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر قیمت ایک طویل مدت کے لیے 200 روزہ SMA سے زیادہ رہتی ہے، تو بہت سے ٹریڈرز کی جانب سے اثاثے کو بُل مارکیٹ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

ٹریڈرز متحرک اوسطوں کی عبوری لکیروں کو خریدنے یا بیچنے کے سگنلز کے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر 100 روزہ SMA ایک 200 روزہ SMA کو پار کر کے نیچے چلا جاتا ہے، تو اسے بیچنے کا سگنل تصور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن درحقیقت اس کراس کا مطلب کیا ہے؟ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گزشتہ 100 دنوں کی اوسط قیمت اب گزشتہ 200 دنوں کی اوسط قیمت سے نیچے ہے۔ یہاں فروخت کے پیچھے یہ تصور پنہاں ہے کہ قیمت کی قلیل مدتی حرکات بڑھتے رجحان کی پیروی نہیں کر رہیں، لہذا ممکن ہے کہ رجحان پلٹ رہا ہو۔

مزید جاننے کے لیے بے تاب ہیں؟ متحرک اوسطوں پرہمارا آرٹیکل ملاحظہ کریں۔


3. متحرک اوسط کی موافقت و تضاد (MACD)



MACD کو دو متحرک اوسطوں کے درمیان تعلق کو ظاہر کر کے کسی اثاثے کی رفتار کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دو لکیروں سے مل کر بنتا ہے – MACD لکیر اور سگنل کی لکیر۔ MACD کی لکیر کا حساب 12 EMA سے 26 EMA کی تفریق کر کے لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد، اسے MACD کی لکیر کے 9 EMA – یعنی سگنل کی لکیر پر پر پلاٹ کیا جاتا ہے۔ چارٹنگ کے بہت سے ٹولز اکثر ایک ہسٹو گرام کو بھی شامل کرتے ہیں، جو MACD کی لکیر اور سنگل کی لکیر کے درمیان موجود فاصلے کو واضح کرتا ہے۔ 

MACD اور قیمت کی حرکات کے درمیان موجود تضادات کو تلاش کرنے سے، ٹریڈرز کو موجودہ رجحان کے مضبوط پہلو کا ادراک حاصل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر قیمت بلند ترین سے بھی اوپر جا رہی ہے، جبکہ MACD کم ترین سے بھی نیچے جا رہا ہو، تو ممکن ہے کہ مارکیٹ چلد ہی اپنی ابتدائی حالت پر واپس آنے والی ہو۔ اس صورت میں MACD ہمیں کیا بتا رہا ہے؟ یہ کہ قیمت بڑھ رہی ہے جبکہ رفتار کم ہو رہی ہے، لہذا کمی واقع ہونے یا واپس تبدیلی کے رونما ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔

ٹریڈرز MACD کی لکیر اور اس کی سنگل کی لکیر کے درمیان موجود عبوری لکیروں کو تلاش کرنے کے لیے بھی اس اشارے کو استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر MACD کی لکیر، سنگل لکیر کو پار کر کے اوپر چلی جاتی ہے، تو یہ خریداری کے سگنل کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر MACD کی لکیر، سنگل کی لکیر کو پار کر کے نیچے چلی جاتی ہے، تو یہ فروخت کے سگنل کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

MACD کو اکثر اوقات RSI کے ساتھ اکٹھا استعمال کیا جاتا ہے، چونکہ یہ دونوں ہی رفتار کی پیمائش کرتے ہیں، تاہم مختلف عوامل کے ذریعے۔ مفروضہ یہ ہے کہ اکٹھے مل کر وہ مارکیٹ کا ایک مزید جامع تکنیکی تجزیہ فراہم کر سکتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے بے تاب ہیں؟ MACD پر ہمارا آرٹیکل ملاحظہ کریں۔



کرپٹو کرنسی پر آغاز کرنا چاہتے ہیں؟ Binance پر Bitcoin خریدیں!



4. Stochastic RSI (StochRSI)



Stochastic RSI ایک رفتار کا اوسیلیٹر ہے جو اس بات کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ آیا کوئی اثاثہ ضرورت سے زیادہ خریدا یا ضرورت سے زیادہ فروخت کیا گیا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے، یہ RSI کا ڈیریویٹو ہے، چونکہ یہ قیمت کے ڈیٹا کی بجائے RSI کی قدروں سے تخلیق کیا جاتا ہے۔ یہ RSI کی معمولی قدروں پر ایک ایسا فارمولا لاگو کرتے ہوئے تخلیق کیا جاتا ہے جسے Stochastic اوسیلیٹر فارمولا کہا جاتا ہے۔ عام طور پر، Stochastic RSI کی قدروں کی حد 0 اور 1 (یا 0 اور 100) کے درمیان ہوتی ہے۔

اپنی تیز رفتار اور زائد حساسیت کے سبب، StochRSI ٹریڈنگ کے بہت سے سگنلز تخلیق کر سکتا ہے جنہیں سمجھنا ذرا مشکل ہو سکتا ہے۔ عموماََ، یہ اس وقت سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہو سکتا ہے جب یہ اپنی حد کی بالائی یا نچلی ترین سطحوں کے قریب ہو۔ 

StochRSI کی 0.8 سے زائد ریڈنگ کو عام طور پر ضرورت سے زیادہ خریدا گیا سمجھا جاتا ہے، جبکہ 0.2 سے کم قدر کو ضرورت سے زیادہ فروخت شدہ سمجھا جا سکتا ہے۔ 0 کی قدر کا مطلب ہے کہ پیمائش کردہ مدت (ڈیفالٹ سیٹنگ عام طور پر 14 ہوتی ہے) میں RSI اپنی کم ترین مالیت پر ہے۔ اس کے برعکس، 1 کی قدر ظاہر کرتی ہے کہ پیمائش کردہ مدت میں RSI اپنی بلند ترین مالیت پر ہے۔

RSI کے استعمال کے طریقے کی طرح، StochRSI کی ضرورت سے زیادہ خریدی گئی یا ضرورت سے زیادہ فروخت شدہ قدر کا یہ مطلب نہیں کہ قیمت میں یقیناً تبدیلی آئے گی۔ StochRSI کی صورت میں، یہ صرف اس بات کی نشاندہی ہے کہ RSI کی قدریں (جس سے StochRSI کی قدریں اخذ شدہ ہیں) اپنی موجودہ ریڈنگز کی انتہاؤں کے قریب ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ RSI اشارے کے مقابلے میں StochRSI زیادہ حساس ہے، لہذا یہ مزید غلط یا گمراہ کن سگنلز تخلیق کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ 

مزید جاننے کے لیے بے تاب ہیں؟ Stochastic RSI پر ہمارا آرٹیکل ملاحظہ کریں۔


5. بولینجر بینڈز (BB)



بولینجر بینڈز مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ خریداری اور ضرورت سے زیادہ فروخت کی صورتحال کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔ یہ تین لکیروں - ایک SMA (درمیانہ بینڈ)، اور ایک بالائی اور نچلے بینڈ سے مل کر بنتے ہیں۔ یہ سیٹنگز مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن بالائی اور زیریں بینڈز عمومی طور پر درمیانی بینڈ سے ہٹ کر واقع ہونے والے دو معیاری انحرافات ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے اتار چڑھاؤ بڑھتا اور گھٹتا ہے، ویسے ہی بینڈز کے درمیان موجود فاصلہ بھی بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔

عموماََ، قیمت بالائی بینڈ سے جتنی قریب ہو گی، درج شدہ اثاثہ بھی ضرورت سے زیادہ خریداری کی صورتحال سے اتنا ہی قریب ہو گا۔ اس کے برعکس، قیمت زیریں بینڈ سے جتنی قریب ہو گی، یہ ضرورت سے زیادہ فروخت کی صورتحال سے بھی اتنی ہی قریب ہو گی۔ زیادہ تر، قیمت بینڈز کے اندر ہی رہے گی، لیکن چند صورتوں میں، یہ ان سے تجاوز کر سکتی ہے یا نیچے گر سکتی ہے۔ اگرچہ یہ ایونٹ بذات خود ایک ٹریڈنگ کا سگنل نہیں ہو سکتا، تاہم، یہ مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

BBs کا ایک اور اہم نظریہ سکڑاؤ کہلاتا ہے۔ اس سے مراد قیمت میں کم اتار چڑھاؤ کی مدت ہے، جہاں تمام بینڈز ایک دوسرے کے بہت قریب آ جاتے ہیں۔ یہ مستقبل میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر بینڈز ایک دوسرے سے بہت دور ہیں، تو اتار چڑھاؤ میں کمی کے دور کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے بے تاب ہیں؟ بولینجر بینڈز پر ہمارا آرٹیکل ملاحظہ کریں۔


اختتامی خیالات

اگرچہ یہ اشارے محض ڈیٹا ظاہر کرتے ہیں، تاہم، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس ڈیٹا کی تشریح، بہت حد تک محض ذاتی آراء کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اسی لیے، اگر ذاتی تعصبات آپ کی فیصلہ سازی کو متاثر کر رہے ہیں تو بہتر ہے کہ پہلے پیچھے ہٹ کر صورتحال پر غور کیا جائے۔ جو چیز ایک ٹریڈر کے لیے خریداری یا فروخت کا سگنل ہو سکتی ہے، وہیں دوسرے ٹریڈر کے نزدیک محض مارکیٹ کا شور ہو سکتی ہے۔ 

مارکیٹ کے تجزیوں کی زیادہ تر تکانیک کی طرح، یہ اشارے بھی اس وقت بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں جب یہ ایک دوسرے کے ساتھ، یا بنیادی تجزیے (FA) جیسے دیگر طریقوں کے ساتھ استعمال کیے جائیں۔
تکنیکی تجزیہ (TA) سیکھنے کا بہترین طریقہ مسلسل مشق ہے۔ Binance پر جائیں اور حاصل ہونے والی نئی معلومات کو برائے کار لائیں!