متحرک اوسطوں کی وضاحت
امواد کا جدول
متحرک اوسطوں کی مختلف اقسام
سادہ متحرک اوسط
ایکسپونینشل متحرک اوسط
متحرک اوسطوں کا استعمال کس طرح کیا جائے
کراس اوور سگنلز
دیگر عوامل جو قابل غور ہیں
اختتامی خیالات
متحرک اوسطوں کی وضاحت
ہومآرٹیکلز
متحرک اوسطوں کی وضاحت

متحرک اوسطوں کی وضاحت

نو آموز
شائع کردہ Nov 29, 2018اپڈیٹ کردہ Aug 30, 2022
5m
تکنیکی تجزیہ (TA) ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری کی دنیا میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ روایتی پورٹ فولیوز سے لے کر کرپٹو کرنسیز جیسے کہ Bitcoin اور Ethereum تک، TA اشاروں کے استعمال کا فقط ایک ہی مقصد ہے: زیادہ دانشمندانہ فیصلے کرنے کے لیے موجودہ ڈیٹا کا استعمال کرنا جو ممکنہ طور پر مطلوبہ نتائج کا سبب بنیں گے۔ چونکہ مارکیٹس زیادہ پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں، پچھلی دہائیوں میں سینکڑوں مختلف قسم کے TA اشارے تیار کیے گئے ہیں، لیکن چند ایک ہی کو متحرک اوسطوں(MA) جیسی مقبولیت اور مسلسل استعمال نصیب ہوا ہے۔

اگرچہ متحرک اوسطوں کی مختلف اقسام ہیں، لیکن ان کا بنیادی مقصد ٹریڈنگ کے چارٹس کی توضیح کرنا ہے۔ اس کا حصول آسانی سے قابل فہم رجحانی اشارے بنانے کے لیے گرافس ہموار کر کے ممکن بنایا جاتا ہے۔ چونکہ یہ متحرک اوسطیں ماضی کے ڈیٹا پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے انہیں سابقہ یا رجحان کی پیروی کرنے والے اشارے سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی، یہ مارکیٹ کی سمت کا اندازہ لگانے میں معاونت کرتے ہیں اور اپنی اس صلاحیت کی بنیاد پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔


متحرک اوسطوں کی مختلف اقسام

متحرک اوسطوں کی مختلف اقسام ہیں جنہیں ٹریڈرز نہ صرف ایک روزہ ٹریڈنگ میں بلکہ طویل مدتی سیٹ اپس میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مختلف اقسام کے باوجود، MAs کو عموماً دو الگ الگ زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے: سادہ متحرک اوسط (SMA) اور ایکسپونینشل متحرک اوسط (EMA)۔ مارکیٹ اور مطلوبہ نتائج کی بنیاد پر، ٹریڈرز یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ کون سا اشارہ ان کے سیٹ اپ کو زیادہ فائدہ پہنچائے گا۔


سادہ متحرک اوسط

SMA وقت کے ایک سیٹ کردہ مدت سے ڈیٹا کو لیتا ہے اور ڈیٹا سیٹ کے لیے اس سکیورٹی کی اوسط قیمت کو تیار کرتا ہے۔ SMA اور ماضی کی قیمتوں کی بنیادی اوسط کے مابین فرق یہ ہے کہ SMA کے ساتھ، جیسے ہی کسی نئے ڈیٹا سیٹ کو درج کیا جاتا ہے، تو سب سے پرانے ڈیٹا سیٹ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لہذا اگر سادہ متحرک اوسط 10 دنوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر اوسط کا حساب لگاتا ہے، تو پورے ڈیٹا سیٹ کو صرف آخری 10 دن شامل کرنے کے لیے مسلسل اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔

یہ ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ SMA میں تمام ڈیٹا ان پٹس کو یکساں طور پر وزن کیا جاتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ ذرا سی دیر پہلے ہی کیوں نہ درج کیے گئے ہوں۔ اس نظریے پر یقین رکھنے والے ٹریڈرز کہ دستیاب ہونے والا تازہ ترین ڈیٹا، زیادہ مطابقت رکھتا ہے، اکثر یہ کہتے ہیں کہ SMA کا مساوی وزن تکنیکی تجزیے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایکسپونینشل متحرک اوسط (EMA) یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔


ایکسپونینشل متحرک اوسط

EMAs SMAs سے ملتے جلتے ہیں کیونکہ وہ ماضی میں قیمت کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر تکنیکی تجزیہ فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، یہ سلسلہ مزید پیچیدہ ہے کیونکہ ایک EMA حالیہ قیمت کے اندراجات کو زیادہ وزن اور مالیت مختص کرتا ہے۔ اگرچہ دونوں اوسطوں کی اپنی مالیت ہوتی ہے اور ان کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، EMA قیمت میں اچانک اتار چڑھاؤ اور ان کے پلٹ جانے پر زیادہ ردعمل دکھاتا ہے۔

چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ EMAs SMAs کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے قیمتوں کی درستگی کی نشاندہی کرتے ہیں، انہیں زیاہ تر ایسے ٹریڈرز پسند کرتے ہیں جو کہ کم مدت کی ٹریڈنگ میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایک ٹریڈر یا سرمایہ کار کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ترتیبات اس حساب سے ایڈجسٹ کرتے ہوئے، اپنی ذاتی حکمت عملیوں اور اہداف کے مطابق متحرک اوسط کی قسم کا انتخاب کرے۔


متحرک اوسطوں کا استعمال کس طرح کیا جائے

چونکہ MAs موجودہ قیمتوں کے بجائے ماضی کی قیمتیں استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان میں ایک خاص مدت کا وقفہ آتا ہے۔ ڈیٹا سیٹ جتنا زیادہ وسیع ہوگا، وقفہ اتنا ہی بڑا ہوگا۔ مثال کے طور پر، ایک متحرک اوسط جو پچھلے 100 دنوں کا تجزیہ کرتا ہے، وہ اس MA کے مقابلے میں نئی معلومات پر مزید آہستگی کے ساتھ ردعمل دے گا جو صرف ماضی کے 10 دن زیر غور لاتا ہے۔ یہ صرف اس لیے ہے کہ کسی بڑے ڈیٹا سیٹ میں نئی انٹری کا مجموعی نمبروں پر کم اثر پڑے گا۔

ٹریڈنگ سیٹ اپ کے اعتبار سے دونوں فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ بڑے ڈیٹا سیٹ سے طویل مدتی سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ایک یا دو بڑے اتار چڑھاؤ کے باعث ان میں بہت زیادہ تبدیلی کا امکان کم ہوتا ہے۔ قلیل مدتی تاجر اکثر چھوٹے ڈیٹا سیٹ کی حمایت کرتے ہیں جو زیادہ رجعتی ٹریڈ کی اجازت دیتا ہے۔

روایتی مارکیٹس میں، 50، 100 اور 200 دنوں کے MAs سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ 50-دن اور 200-دن کی متحرک اوسط کا مشاہدہ اسٹاک ٹریڈرز قریب سے کرتے ہیں اور ان لائنز کے اوپر یا نیچے کسی بھی وقفے کو عموماً اہم ٹریڈنگ سگنل سمجھا جاتا ہے، خصوصاً اس وقت جب ان کے بعد کراس اوورز واقع ہوتے ہیں۔ یہی بات کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ پر بھی لاگو ہوتی ہے لیکن اس کی 24/7 غیر مستحکم مارکیٹس کے سبب، MA کی ترتیبات اور ٹریڈنگ کی حکمت عملی ٹریڈر کے پروفائل کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔


کراس اوور سگنلز

قدرتی طور پر، بڑھتا ہوا MA بڑھتے رجحان کو تجویز کرتا ہے اور ایک گرتا ہوا MA گھٹتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، محض ایک متحرک اوسط واقعتاً قابل اعتماد اور مضبوط اشارہ نہیں ہے۔ لہذا، MAs کو تیزی اور کمی کے کراس اوور سگنلز تلاش کرنے کے لیے مسلسل استعمال کیا جاتا ہے۔

جب ایک چارٹ میں دو مختلف MAs کراس اوور ہوتے ہیں تو کراس اوور سگنل بنتا ہے۔ ایک تیزی پر مشتمل کراس اوور (جسے گولڈن کراس بھی کہا جاتا ہے) اس وقت واقع ہوتا ہے جب قلیل مدتی MA طویل مدتی سے اوپر نکل جاتا ہے، جو تیزی پر مشتمل رجحان کی شروعات تجویز کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک کمی پر مشتمل کراس اوور (یا ڈیتھ کراس) تب واقع ہوتا ہے جب قلیل مدتی MA ایک ایک طویل مدتی متحرک اوسط سے نیچے چلا جائے، جو کہ کمی پر مشتمل رجحان کی شروعات کی نشاندہی کرتا ہے۔ 


دیگر عوامل جو قابل غور ہیں

اب تک کی تمام مثالیں دنوں کے اعتبار سے ہیں، لیکن MAs کا تجزیہ کرتے وقت یہ لازم نہیں ہے کہ ایسا ہی ہو۔ جو لوگ ایک روزہ ٹریڈنگ میں حصہ لیتے ہیں، وہ اس بات میں زیادہ دلچسپی لے سکتے ہیں کہ دو یا تین مہینوں میں نہیں بلکہ پچھلے دو یا تین گھنٹوں کے دوران کسی اثاثے کی کارکردگی کیسی رہی ہے۔ ان مساواتوں میں تمام مختلف ٹائم فریمز چسپاں کیے جا سکتے ہیں تاکہ متحرک اوسطوں کا حساب لگایا جا سکے، اور جب تک ٹائم فریمز ٹریڈنگ کی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہیں، ڈیٹا سود مند رہے گا۔

MAs کا ایک بڑا نقصان ان کا مسابقتی وقت ہے۔ چونکہ MAs سابقہ اشارے ہیں جو کہ سابقہ قیمت کی حرکات کو زیر غور لاتے ہیں، سگنلز اکثر بہت زیادہ تاخیر سے ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر، تیزی پر مشتمل کراس اوور خریدنے کا مشورہ دے سکتا ہے، لیکن یہ قیمت میں نمایاں اضافے کے بعد ہی واقع ہو سکتا ہے۔ 

اس کا مطلب ہے کہ اگر رجحان میں تیزی جاری بھی رہتی ہے، تو ممکنہ نفع قیمت میں اضافے اور کراس اوور سگنل کے درمیانی عرصہ میں کہیں کھو چکا ہو گا۔ یا اس بھی بدتر صورتحال یہ ہو سکتی ہے، کہ غلط گولڈن کراس سگنل ٹریڈر کو قیمت میں کمی آنے سے قبل مقامی طور پر مہنگی خریداری کرنے پر مائل کر سکتا ہے۔ خریداری کے ان غلط سگنلز کو عام طور پہ بُل کا دھوکہ کہا جاتا ہے۔


اختتامی خیالات

متحرک اوسط طاقتور TA اشارے ہیں اور یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اشاروں میں سے ایک ہیں۔ ڈیٹا پر مشتمل طریقوں سے مارکیٹ کے رجحانات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت اس بات کی تفصیلی آگاہی دیتی ہے کہ مارکیٹ میں کیسی کارکردگی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ تاہم، ذہن میں رکھیں کہ MAs اور کراس اوور سگنلز کو اکیلے استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے اور جعلی سگنلز سے بچنے کے لیے مختلف TA اشارے یکجا کرنا ہمیشہ زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔