خودکار مارکیٹ میکر (AMM) کیا ہوتا ہے؟
امواد کا جدول
تعارف
خودکار مارکیٹ میکر (AMM) کیا ہوتا ہے؟
خودکار مارکیٹ میکر (AMM) کس طرح سے کام کرتا ہے؟
ایک لیکویڈیٹی پول کیا ہوتا ہے؟
عارضی نقصان کیا ہوتا ہے؟
اختتامی خیالات
خودکار مارکیٹ میکر (AMM) کیا ہوتا ہے؟
ہوم
آرٹیکلز
خودکار مارکیٹ میکر (AMM) کیا ہوتا ہے؟

خودکار مارکیٹ میکر (AMM) کیا ہوتا ہے؟

جدید
شائع کردہ Oct 8, 2020اپڈیٹ کردہ Oct 19, 2022
6m

TL؛DR

آپ خودکار مارکیٹ میکر کو ایک ایسا روبوٹ سمجھ سکتے ہیں جو کہ ہمیشہ آپ کو دو اثاثوں کے بیچ کی قیمت بتانے کے لیے تیار ہو۔ بعض افراد Uniswap جیسا آسان فارمولا استعمال کرتے ہیں، جبکہ Curve، Balancer اور دیگر مزید پیچیدہ فارمولا استعمال کرتے ہیں۔

AMM کے ذریعے آپ نہ صرف مکمل اعتماد کے ساتھ ٹریڈ کر سکتے ہیں، بلکہ آپ لیکویڈیٹی پول میں لیکویڈیٹی فراہم کر کے سرگرمیوں کا مرکز بھی بن سکتے ہیں۔ یہ امر بنیادی طور پر کسی بھی فرد کو ایکسچینج پر مارکیٹ میکر بننے اور لیکویڈیٹی فراہم کرنے کے لیے فیس کمانے کے قابل بناتا ہے۔

استعمال میں سادہ اور آسان ہونے کے سبب AMMs نے واقعتاً DeFi کی دنیا میں اپنے لیے ایک خصوصی جگہ بنائی ہے۔ اس طرح سے مارکیٹ میکنگ کے عمل کو غیر مرکزی بنانا ہی وہ ہدف ہے جس کی وجہ سے کرپٹو کا نظریہ وجود میں آیا۔


تعارف

Ethereum اور دیگر اسمارٹ معاہدہ جاتی پلیٹ فارمز جیسے کہ Binance اسمارٹ چین پر غیر مرکزی فنانس (DeFi) میں دلچسپی میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ منافع جاتی فارمنگ ٹوکن کی تقسیم کا ایک مقبول طریقہ بن چکی ہے، Ethereum پر ٹوکنائزڈ BTC میں اضافہ ہو رہا ہے، اور فلیش قرضہ جات کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

دریں اثنا، خودکار مارکیٹ میکر پروٹوکولز جیسے کہ Uniswap میں مستقل بنیادوں پر مسابقتی حجم، زائد لیکویڈیٹی، اور صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھنے میں آ رہی ہے۔

لیکن آخر یہ ایکسچینجز کام کیسے کرتے ہیں؟ تازہ ترین فوڈ کوائن کے لیے نہایت تیزی اور آسانی کے ساتھ مارکیٹ کا قیام کیسے ممکن ہے؟ کیا AMMs واقعی روایتی آرڈر بُک ایکسچینجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ آئیں اس بات کا پتا لگاتے ہیں۔


خودکار مارکیٹ میکر (AMM) کیا ہوتا ہے؟

خودکار مارکیٹ میکر (AMM) غیر مرکزی ایکسچینج (DEX) کے پروٹوکول ہی کی ایک قسم ہے جو اثاثہ جات کی قیمت مقرر کرنے کے لیے ریاضی کے ایک فارمولے پر انحصار کرتا ہے۔ روایتی ایکسچینج کی طرح آرڈر بُک استعمال کرنے کی بجائے، اثاثوں کی قیمت، قیمتوں کے الگورتھم کے مطابق مقرر کی جاتی ہے۔

یہ فارمولا ہر پروٹوکول کے حساب سے مختلف ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، Uniswap x * y = k کا استعمال کرتا ہے، جس میں x لیکویڈیٹی پول میں موجود کسی ایک ٹوکن کی مقدار ہوتی ہے، اور y دوسرے کی مقدار ہوتی ہے۔ اس فارمولے میں، k ایک مقررہ جاریہ ہے، یعنی پول کی کُل لیکویڈیٹی ہمیشہ ایک جیسی ہونی چاہیئے۔ دیگر AMMs استعمال کی ان صورتوں کے حساب سے دیگر فارمولے استعمال کریں گے جو ان کا ہدف ہیں۔ تاہم، ان سب میں مشترکہ چیز یہ ہے، کہ وہ الگورتھم کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔ اگر اس وقت یہ بات سمجھنے میں دقت ہو رہی ہے، تو پریشان نہ ہوں؛ امید ہے کہ، آخر میں تمام گتھیاں سلجھ جائیں گی۔ 
مارکیٹ میکنگ کے روایتی عمل میں عموماً وہ فرمز شامل ہوتی ہیں جن کے پاس وسیع پیمانے پر وسائل اور پیچیدہ حکمت عملیاں موجود ہوں۔ مارکیٹ میکرز Binance جیسے آرڈر بُک ایکسچینج پر آپ کو ایک اچھی قیمت اور لگائی اور مانگی گئی قیمت میں کم فرق کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ خودکار مارکیٹ میکرز اس عمل کو غیر مرکزی بنا دیتے ہیں اور بنیادی طور پر ہر ایک کو بلاک چین پر مارکیٹ تخلیق کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ آخر وہ یہ عمل کس طرح سے انجام دیتے ہیں؟ آئیں اس بارے میں پڑھتے ہیں۔


خودکار مارکیٹ میکر (AMM) کس طرح سے کام کرتا ہے؟

AMM اس تناظر میں کسی آرڈر بُک ایکسچینج ہی کی طرح کام کرتا ہے کہ اس میں ٹریڈنگ کے جوڑے شامل ہوتے ہیں – مثلاً، ETH/DAI۔ تاہم، آپ کو ٹریڈ کرنے کے لیے دوسری جانب کسی فریق مخالف (دوسرے ٹریڈر) کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی بجائے، آپ ایک ایسے اسمارٹ معاہدے کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں جو آپ کے لیے مارکیٹ ’’بناتا‘‘ ہے۔

Binance DEX جیسے کسی غیر مرکزی ایکسچینج پر، ٹریڈز براہ راست صارفی والیٹس کے مابین انجام پاتی ہیں۔ اگر آپ Binance DEX پر BUSD کے لیے BNB بیچتے ہیں، تو دوسری جانب کوئی ایسا فرد بھی موجود ہوتا ہے جو اپنے BUSD کے عوض BNB خریدتا ہے۔ ہم اسے پیئر ٹو پیئر (P2P) ٹرانزیکشن کہہ سکتے ہیں۔ 
اس کے برعکس، آپ فرض کر سکتے ہیں کہ AMMs پیئر-تا-معاہدہ (P2C) پر مشتمل ہیں۔ چونکہ ٹریڈ صارفین اور معاہدہ جات کے مابین انجام پاتی ہے، لہٰذا روایتی نوعیت کے فریقین مخالف کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ چونکہ کوئی آرڈر بُک موجود نہیں ہوتی، لہٰذا AMM پر آرڈر کی کوئی اقسام بھی موجود نہیں ہوتیں۔ اس اثاثے کی قیمت کا تعین ایک فارمولا کی جانب سے کیا جاتا ہے جو آپ خریدنا یا بیچنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات قابلِ غور ہے کہ مستقبل کے کچھ AMM ڈیزائنز ان پابندیوں کے برخلاف جا سکتے ہیں۔

اگرچہ فریقین مخالف کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ظاہر ہے پھر بھی کسی نہ کسی کو تو مارکیٹ تخلیق کرنی ہی ہو گی؟ جی ہاں۔ تب بھی اسمارٹ معاہدے میں موجود لیکویڈیٹی ان صارفین کی جانب سے فراہم کی جانی چاہیئے جنہیں لیکویڈیٹی فراہم کنندگان (LPs) کا نام دیا جاتا ہے۔


ایک لیکویڈیٹی پول کیا ہوتا ہے؟


لیکویڈیٹی فراہم کننگان (LPs) لیکویڈیٹی پولز میں فنڈز شامل کرتے ہیں۔ آپ لیکویڈیٹی پول کو فنڈز کا ایک ایسا انبار سمجھ سکتے ہیں جس کے بل پر ٹریڈرز اپنی ٹریڈ انجام دے سکتے ہیں۔ پروٹوکول کو لیکویڈیٹی فراہم کرنے کے بدلے میں، LPs اپنے پولز میں انجام پانے والی ٹریڈز سے فیس کماتے ہیں۔ Uniswap کی صورت میں، LPs دو ٹوکنز کی مساوی مالیت ڈپازٹ کرواتے ہیں – مثلاً، ETH/DAI پول میں 50% ETH اور 50% DAI۔

ذرا رکیے، تو کیا کوئی بھی مارکیٹ میکر بن سکتا ہے؟ بے شک! لیکویڈیٹی پول میں فنڈز شامل کرنا بہت آسان ہے۔ انعامات کا تعین پروٹوکول کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً، Uniswap v2، ٹریڈرز پر 0.3% لاگت عائد کرتا ہے جو کہ براہِ راست LPs کو جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ دیگر پلیٹ فارمز یا فورکز مزید لیکویڈیٹی فراہم کاران کو اپنے پول کا حصہ بنانے کے لیے کم لاگت عائد کریں۔

لیکویڈیٹی کا حصول کیوں اہم ہے؟ AMMs کے کام کے طریقے کی وجہ سے، پول میں جتنی زیادہ لیکویڈیٹی ہو گی، بڑے آرڈرز پر اتنی ہی کم سلِپیج جمع ہو گی۔ جس کی وجہ سے، پلیٹ فارم پر مزید حجم کا حصول ممکن ہو گا، اور یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔

مختلف AMM ڈیزائنز کے اعتبار سے سلِپیج کے مسائل بھی مختلف ہوں گے، لیکن یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ یاد رکھیں، قیمت کا تعین الگورتھم کرتا ہے۔ آسان لفظوں میں، اس کا تعین اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ ٹریڈ کے بعد لیکویڈیٹی پول میں ٹوکنز کا تناسب کس حد تک تبدیل ہوتا ہے۔ اگر تناسب وسیع مارجن سے تبدیل ہوتا ہے، تو سلِپیج کی مقدار زیادہ ہو گی۔

اس کی مزید وضاحت کچھ یوں کی جا سکتی ہے، فرض کریں کہ آپ Uniswap پر ETH/DAI پول میں موجود تمام ETH خریدنا چاہتے ہیں۔ تو بات کچھ یوں ہے، کہ آپ ایسا نہیں کر سکیں گے! ہر اضافی ether کے لیے آپ کو تیزی سے بڑھتا ہوا پریمیئم ادا کرنا ہو گا، تب بھی آپ اسے مکمل طور پر پول سے نہیں خرید پائیں گے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ x * y = k فارمولا ہے۔ اگر x یا y  میں سے کوئی بھی صفر ہو، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پول میں ETH یا DAI کی تعداد صفر ہے، نتیجتاً یہ مساوات بے معنی ہو جائے گی۔

تاہم AMMs اور لیکویڈیٹی پولز کے بارے میں ساری باتیں یہیں تک محدود نہیں ہیں۔ AMMs کو لیکویڈیٹی فراہم کرتے ہوئے آپ کو کچھ اور بھی ذہن نشین رکھنا ہو گا – یعنی عارضی خسارہ۔


عارضی نقصان کیا ہوتا ہے؟

عارضی خسارہ اس وقت پیش آتا ہے جب ڈپازٹ کردہ ٹوکنز کی قیمت آپ کی جانب سے انہیں پول میں ڈپازٹ کروائے جانے کے بعد تبدیل ہو جائے۔ یہ تبدیلی جتنی بڑی ہو گی، عارضی نقصان بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ AMMs ٹوکن کے ایسے جوڑوں کے ساتھ بہتر کام کرتے ہیں جن کی مالیت یکساں ہو، جیسے کہ اسٹیبل کوائنز یا رواں کردہ کردہ ٹوکنز۔ اگر جوڑے کے مابین قیمت کا تناسب نسبتاً کم حد کے اندر رہے، تو عارضی خسارہ بھی معمولی سا ہی ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر تناسب میں زیادہ تبدیلی آتی ہے، تو لیکویڈیٹی فراہم کاران کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ پول میں فنڈز شامل کرنے کی بجائے محض ٹوکنز ہی ہولڈ میں رکھے جائیں۔ اس کے باوجود، ان کی جانب سے جمع کردہ ٹریڈنگ فیس کے بدولت ETH/DAI جیسے Uniswap پول نفع بخش ثابت ہوئے ہیں جن میں عارضی خسارے کا زائد امکان ہوتا ہے۔

اب جبکہ یہ بات نکل ہی آئی ہے، اس امر کو عارضی خسارے کا نام دینا کچھ ٹھیک نہیں۔ ’’عارضی‘‘ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر اثاثہ جات دوبارہ اس قیمت پر واپس آ جاتے ہیں جس پر وہ ڈپازٹ کروائے گئے تھے، تو خسارہ جات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ تاہم، اگر آپ اپنے فنڈز کو اس تناسب پر نکلواتے ہیں جو اس سے مختلف ہو جس پر وہ جمع کروائے گئے تھے، تو خسارہ جات مستقل ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں، ٹریڈنگ فیس خسارہ جات کو کم کر سکتی ہے، تاہم پھر بھی خطروں کا ادراک ضروری ہے۔

AMM میں فنڈز جمع کرتے وقت محتاط رہیں، اور یقینی بنائیں کہ آپ مستقل نقصان کے امکانات سے آگاہ ہیں۔ اگر آپ عارضی خسارے کا تفصیلی جائزہ لینا چاہتے ہیں، تو اس بارے میں Pintail کا آرٹیکل ملاحظہ کریں۔



اختتامی خیالات

خودکار مارکیٹ میکرز DeFi کی دنیا کا ایک اہم ترین جزو ہیں۔ یہ بنیادی طور پر کسی کو بھی آسانی کے ساتھ اور مؤثر طریقے سے مارکیٹس تخلیق کرنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ اگرچہ آرڈر بک ایکسچینجز کے مقابلے میں ان کے اپنے چند کمزور پہلو ہیں، تاہم ان کی جانب سے کرپٹو میں متعارف کروائی جانے والی مجموعی جدتوں کا کوئی مول نہیں۔

AMMs ابھی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ وہ AMMs جن کے بارے میں آج ہم جانتے ہیں اور جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ Uniswap، Curve، اور PancakeSwap ڈیزائن میں تو خوبصورت ہیں، تاہم خصوصیات کے لحاظ سے کافی محدود ہیں۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں AMM کے کئی اختراعی ڈیزائنز دیکھنے میں آئیں گے۔ اس کے نتیجے میں فیس، اور تنازعات میں کمی واقع ہو گی، اور نتیجتاً DeFi کے ہر صارف کے لیے بہتر لیکویڈیٹی پیدا ہو گی۔