بلاک چین کے استعمال کی صورتیں: ترسیلات زر
امواد کی فہرست
مسئلہ
کیا بلاک چین حل ہے؟
استعمال کی صورتیں
موجودہ چیلنجز اور حدود
اختتامی خیالات
بلاک چین کے استعمال کی صورتیں: ترسیلات زر
ہومآرٹیکلز
بلاک چین کے استعمال کی صورتیں: ترسیلات زر

بلاک چین کے استعمال کی صورتیں: ترسیلات زر

نو آموز
Published Aug 12, 2019Updated May 11, 2022
5m
کمیونٹی کی طرف سے جمع کروایا گیا- مصنف: آئیگور ڈیویڈوو (Igor Davidov)


مختصراً یہ کہ، ترسیلات زر کی تعریف کسی دور دراز مقام پر رقم کے ٹرانسفر کے طور پر کی جا سکتی ہے، عام طور پر مختلف ممالک میں رہنے والے افراد کے درمیان۔ اکثر صورتوں میں، اس سلسے میں تارکین وطن کام کرنے والے شامل ہوتے ہیں جو اپنے آبائی ملک کو میں رقم بھیجتے ہیں۔

آج، ترسیلات زر ترقی پذیر دنیا میں فنڈز کے سب سے بڑے سلسلے کی نمائندگی کرتے ہیں، جو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور آفیشل ترقیاتی امداد کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔  ورلڈ بینک گروپ کے مطابق ، ترسیلات زر کی صنعت نے گزشتہ سالوں میں نمایاں ترقی کی ہے، 2017 میں 8.8% فیصد اور 2018 میں 9.6% فیصد اضافہ ہوا۔

کچھ ترقی پذیر معیشتیں بیرون ملک سے آنے والی نقد رقم پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، جو ترسیلات زر کو ان کی معیشت کا ایک اہم جزو بناتی ہیں۔ اس طرح، تارکین وطن کام کرنے والوں کے ٹرانسفرز اب بہت سے ممالک کی آمدنی کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے۔ مثال کے طور پر، ہیٹی کو 2017 میں جو بین الاقوامی ترسیلات زر موصول ہوئیں وہ اس کی GDP کا تقریباً 29% تھیں۔ 2018 میں یہ فیصد 30.7% تک زیادہ ہوا۔


مسئلہ

ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ $200 کی ترسیلات زر بھیجنے کی موجودہ لاگت تقریباً 7% (عالمی اوسط) ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ 2018 میں دنیا بھر میں ترسیلات زر $689 بلین تک پہنچ گئیں، 7% تقریباً 48 بلین ڈالر آپریشنل اخراجات میں شمار ہوں گی۔

زیادہ فیسوں کے علاوہ، زیادہ تر ترسیلات زر کے حل فریق ثالث کی خدمات اور مالیاتی اداروں پر منحصر ہوتے ہیں۔ متعدد ثالثوں کی ضرورت موجودہ نظام کو انتہائی غیر موثر بناتی ہے۔ نہ صرف اس لیے کہ خدمات مہنگی ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ ٹرانسفر میں دن یا ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔

اس تناظر میں، بلاک چین ٹیکنالوجی ترسیلات زر کی صنعت کو قابل عمل اور زیادہ موثر متبادل فراہم کر سکتی ہے۔ یہ مضمون اس دائرے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی چند مثالوں کے ساتھ، کچھ امکانات اور موجودہ حل کا تعارف کراتی ہے۔


کیا بلاک چین حل ہے؟

بلاک چین ترسیلات زر کی کمپنیوں کا بنیادی مقصد غیر ضروری ثالثوں کو ہٹاتے ہوئے، پورے عمل کو آسان بنانا ہے۔ یہ بغیر رکاوٹ کے اور تقریباً فوری ادائیگی کے حل فراہم کرنے کا ایک تصور ہے۔ روایتی خدمات کے برعکس، ایک بلاک چین نیٹ ورک کی ٹرانزیکشنز کی منظوری کے سست عمل پر انحصار نہیں کرتا، جو عام طور پر کئی ثالثوں سے گزرتا ہے اور اسے بہت زیادہ دستی کام کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے بجائے، ایک بلاک چین سسٹم کمپیوٹرز کے منقسم نیٹ ورک کی بنیاد پر دنیا بھر میں مالی ٹرانزیکشنز انجام دے سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متعدد کمپیوٹرز ٹرانزیکشنز کی توثیق اور تصدیق کے عمل میں حصہ لیتے ہیں - اور یہ غیر مرکزی کردہ اور محفوظ طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ جب روایتی بینکنگ سسٹم کے مقابلے میں، بلاک چین ٹیکنالوجی بہت کم لاگت پر تیز تر اور زیادہ قابل اعتماد ادائیگی کے حل فراہم کر سکتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں، بلاک چین ٹیکنالوجی ترسیلات زر کی صنعت کو درپیش کچھ بڑے مسائل کو حل کر سکتی ہے، جیسے کہ زیادہ فیس اور طویل ٹرانزیکشن کا وقت۔ ثالثوں کی تعداد کو کم کر کے آپریشنل اخراجات کافی حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔


استعمال کی صورتیں

موبائل ایپلیکیشن

بہت سی کمپنیاں اب ادائیگی کے نئے حل فراہم کرنے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربہ جات کر رہے ہیں۔ کچھ موبائل کرپٹو والیٹس صارفین کو دنیا بھر میں ڈیجیٹل اثاثہ جات بھیجنے اور وصول کرنے اور کرپٹو اور فیاٹ کرنسیز کے درمیان فوری ایکسچینج کی اجازت دیتے ہیں۔

Coins.ph موبائل والیٹ ایپ کی ایک مثال ہے جو متعدد فیچرز فراہم کرتی ہے۔ صارفین بین الاقوامی ترسیلات زر، بلز کی ادائیگی کرنے، گیم کریڈٹس خریدنے، یا صرف Bitcoin اور دیگر کرپٹو کرنسیز ٹریڈ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ مالیاتی خدمات کے لیے بینک اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔


ڈیجیٹل پلیٹ فارمز

کچھ کمپنیز ایسے بنیادی انفرا اسٹرکچر کو چلا رہی ہیں جو روایتی مالیاتی سسٹم کے ساتھ براہ راست تعامل کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، BitPesa ایک آن لائن پلیٹ فارم ہے جو افریقہ میں بلاک چین ٹیکنالوجی کو تعینات کرتا ہے۔ 2013 میں قائم کیا گیا، وہ کم شرحوں اور بڑھتی ہوئی رفتار پر ادائیگی کے حل اور کرنسی کا ایکسچینج فراہم کر رہے ہیں۔

Stellar پروٹوکول ایک بلاک چین پلیٹ فارم کی ایک اور مثال ہے جو ترسیلات زر انڈسٹری میں کردار کرتا ہے۔ Stellar کی بنیاد 2014 میں مالیاتی رسائی کو فروغ دینے، دنیا بھر میں لوگوں اور مالیاتی اداروں کو جوڑنے کے مبینہ مقصد کے ساتھ رکھی گئی تھی۔

Stellar نیٹ ورک کا شمار منقسم شدہ لیجر میں ہے جس کی اپنی کرنسی ہے، جس کا نام Stellar lumens (XLM) ہے۔ ان کے مقامی ٹوکن کو ایک درمیانی کرنسی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جو فیاٹ اور کرپٹو کرنسی اثاثوں کے درمیان عالمی ٹریڈ میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے۔ BitPesa کی طرح، صارفین اور مالیاتی ادارے ٹرانزیکشن کی کم لاگتوں کے ساتھ رقم بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے Stellar پلیٹ فارم کا استعمال کر سکتے ہیں۔


ATMs

موبائل ایپلیکیشنز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ، ATMs کا استعمال دنیا بھر میں رقم بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے ایک دلچسپ حل فراہم کر سکتا ہے۔ اس طرح کا نقطہ نظر خاص طور پر ان پسماندہ علاقوں میں مفید ہو سکتا ہے جہاں اب بھی اچھے انٹرنیٹ کنکشن یا بینکنگ سسٹم کا فقدان ہے۔

Bit2Me اور MoneyFi جیسی کمپنیز ترسیلات زر کے نئے سسٹمز تیار کر رہی ہیں جو بلاک چین ٹیکنالوجی کو ATMs کے ساتھ جوڑتی ہیں۔ ان کا مقصد پری پیڈ کارڈز کا اجراء ہے جو متعدد فنکشنالٹیز کی معاونت کرتے ہیں۔ 

ATMs کے ساتھ بلاک چین لیجرز کا مشترکہ استعمال ثالثین کی ضرورت کو بہت حد تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صارفین کو بینک اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں ہو گی، اور ATM کمپنیز ممکنہ طور پر اس عمل میں تھوڑی سی فیس چارج کریں گے۔


موجودہ چیلنجز اور حدود

اگرچہ یہ واضح ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی ترسیلات زر کی صنعت میں بہت سے فوائد کا سبب بنتی ہے، لیکن ابھی بہت طویل سفر باقی ہے۔ ذیل میں ممکنہ حل کے ساتھ، کچھ متوقع رکاوٹیں اور اہم حدود پیش کیے گئے ہیں۔

  • کرپٹو-فیاٹ تبادلہ۔ دنیا بھر کی معیشت اب بھی فیاٹ کرنسیز پر مبنی ہے، اور کرپٹو اور فیاٹ کے درمیان تبادلہ کرنا ہمیشہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔ بہت سی صورتوں میں، ایک بینک اکاؤنٹ درکار ہے. پیئر ٹو پیئر (P2P) ٹرانزیکشنز بینک کی ضرورت کو ختم کر سکتی ہیں، لیکن صارفین کو ممکنہ طور پر رقم استعمال کرنے کے لیے فیاٹ سے کرپٹو میں تبادلہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔
  • موبائل اور انٹرنیٹ پر انحصار۔ پسماندہ ممالک میں رہنے والے لاکھوں لوگ اب بھی انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم ہیں، اور بہت سے لوگوں کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے۔ جیسا کہ مذکور ہے، بلاک چین سے مطابقت پذیر ATMs اس حل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

  • ضابطہ کاری۔ کرپٹو کرنسی کی ضابطہ کاری ابھی بہت ابتدائی مراحل میں ہے۔ یہ بہت سے ممالک میں یا تو غیر واضح یا موجود نہیں ہے، خاص طور پر وہ جو غیر ملکی نقد رقم کی آمد پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن بلاک چین ٹیکنالوجی کو مزید اپنانے سے یقینی طور پر ضابطہ کاری آگے بڑھے گی۔

  • پیچیدگی۔ کرپٹو کرنسیز اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے تکنیکی علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ تر صارفین اب بھی فریقِ ثالث سروس کے فراہم کاروں پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ بلاک چین کو خود مختار طور پر چلانا اور استعمال کرنا آسان کام نہیں ہے۔ نیز، بہت سے کرپٹو والیٹس اور ایکسچینجز میں اب بھی تعلیمی گائیڈز اور بدیہی انٹرفیس کی کمی ہے۔
  • اتار چڑھاؤ۔ کرپٹو کرنسی مارکیٹس ابھی تک ناپختہ ہیں اور زیادہ اتار چڑھاؤ کے حامل ہیں۔ اس طرح سے، وہ ہمیشہ روزمرہ کے استعمال کے لیے موزوں نہیں ہوتے، کیونکہ ان کی مارکیٹ کی مالیت بہت تیزی سے بدل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، انتہائی اتار-چڑھاؤ والی کرنسیز ان لوگوں کے لیے مثالی نہیں ہیں جو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ رقم ٹرانسفر کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ یہ مسئلہ کچھ اس قدر زیادہ نہیں ہے، اور اسٹیبل کوائنز ایک قابل عمل حل کی پیشکش کر سکتے ہیں۔


اختتامی خیالات

ترسیلات زر کی انڈسٹری کو پچھلی دہائی میں نمایاں ترقی کے تجربے کا سامنا رہا ہے، اور ممکنہ طور پر اگلے برسوں میں اس میں توسیع جاری رہے گی۔ کام یا تعلیمی مواقع کی تلاش میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی ہجرت کی شرح ممکنہ طور پر اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ World Migration Report 2018 کے مطابق ، 2015 میں ایک اندازے کے مطابق 244 ملین بین الاقوامی تارکین وطن تھے - جو 2000 میں تخمینہ شدہ 155 ملین سے تقریباً 57% زیادہ تھے۔

تاہم، ترسیلات زر کے دائرے میں اب بھی عدم صلاحیتوں اور حد بندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً، مزید کمپنیاں زیادہ موثر متبادل فراہم کرنے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں، اور ہم ممکنہ طور پر مستقبل قریب میں تارکین وطن کام کرنے والوں کی طرف سے اس چیز کو اپنائے جانے کے زیادہ واقعات دیکھیں گے۔