شدید افراطِ زر کیا ہے؟
شدید افراطِ زر کیا ہے؟
ہوم
آرٹیکلز
شدید افراطِ زر کیا ہے؟

شدید افراطِ زر کیا ہے؟

نو آموز
شائع کردہ Mar 6, 2019اپڈیٹ کردہ Feb 23, 2023
6m

تمام معیشتوں کو کسی نہ کسی سطح پر افراط زر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اشیاء کی اوسط قیمت میں اضافہ ہونے پر رونما ہوتی ہے، کیونکہ اُس کرنسی کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔ عمومی طور پر، حکومتیں اور مالیاتی ادارے باہم مل کر کام کرتے ہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ افراط زر کی شرح ہموار اور سست رہے۔ تاہم، تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، جہاں افراط زر کی شرحیں تیزی سے اس قدر سنگین سطح تک پہنچ گئی تھیں، کہ ان کی وجہ سے اس ملک کی اصل کرنسی کی حقیقی قدر میں خطرناک تناسبات تک کمی واقع ہو گئی تھی۔ ہم افراط زر کی اس بڑھی ہوئی سطح کو شدید افراط زر کہتے ہیں۔

ماہرِ اقتصادیات Philip Cagan نے اپنی کتاب، "The Monetary Dynamics of Hyperinflation" میں لکھا ہے کہ ایک ماہ کے اندر اشیاء اور سروسز کی قیمت کے %50 سے زیادہ تک بڑھنے پر، شدید افراطِ زر کی مدتوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر 30 سے کم دنوں میں چاول کی ایک بوری کی قیمت 10$ سے 15$ تک بڑھتی ہے، اور اُسی مہینے کے آخر میں 15$ سے 22.50$ تک بڑھ جاتی ہے، تو اسے شدید افراطِ زر کہتے ہیں۔ اور اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے، تو چھ ماہ میں چاول کی بوری کی قیمت 114$ تک بڑھ سکتی ہے، اور ایک سال میں 1,000$ سے زیادہ تک بڑھ سکتی ہے۔

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ شدید افراطِ زر کی شرح %50 پر قائم رہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ شرحیں اتنی تیزی سے بڑھتی ہیں کہ کسی ایک دن یا حتیٰ کہ چند گھنٹے میں متعدد اشیاء اور سروسز کی قیمت میں شدید اضافہ ہو جاتا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں، صارف کے حوصلے میں کمی آجاتی ہے، اور ملک کی کرنسی کی مالیت کم ہو جاتی ہے۔ آخر کار، شدید افراطِ زر سے ایک ایسا مسلسل اثر وجود میں آتا ہے، جس سے کمپنیاں بند ہو جاتی ہیں، بے روزگاری کے شرحیں بڑھ جاتی ہے، اور ٹیکس کی آمدنی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ شدید افراطِ زر کی معروف صورتیں جرمنی، وینزویلا ، اور زمبابوے میں رونما ہوئیں، لیکن کئی دیگر ممالک نے بھی ایسے بحرانوں کا سامنا کیا، جس میں ہنگری، یوگوسلاویہ، یونان، اور اس سے کہیں زیادہ شامل ہیں۔


جرمنی میں شدید افراطِ زر

پہلی جنگِ عظیم کے بعد، شدید افراطِ زر کی مشہور ترین مثالوں میں سے ایک جرمنی کے جمہوریہ ویمار میں پیش آئی۔ جرمنی نے اس امر پر مکمل یقین رکھتے ہوئے کہ وہ جنگ جیت جائیں گے اور اتحادیوں کے معاوضہ جات کو ان قرضہ جات کی ادائیگی کے لیے استعمال کریں گے، جنگی کاوشوں میں مالی سرمایہ فراہم کرنے کے لیے رقم کی کافی بھاری مقدار کا قرض لیا۔ نہ صرف یہ کہ جرمنی جنگ بھی نہ جیت سکا، بلکہ اسے زرتلافیوں کی صورت میں بلین ڈالرز بھی ادا کرنا پڑے۔

جرمنی میں پیش آنے والے شدید افراطِ زر کے اسباب سے متعلق بحث کے باوجود، چند عمومی بیان کردہ اسباب میں گولڈ کے معیار کی معطلی، جنگی نقصانات کے ازالے، اور کاغذی رقم کا بے تحاشا اجراء شامل ہیں۔ جنگ کی شروعات میں گولڈ کے معیار کی معطلی کے فیصلے کا مطلب یہ تھا کہ گردش میں موجود رقم کا اس ملک کے زیرِ ملکیت گولڈ سے مزید کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس متنازع قدم سے جرمنی کی کرنسی کی مالیت میں کمی آ گئی، جس نے اتحادیوں کو مجبور کیا کہ وہ جرمن کاغذی مارک کے علاوہ کسی دوسری کرنسی میں معاوضے کی ادائیگی کا تقاضا کریں۔ جرمنی نے اس عمل کے جواب میں زرِ مبادلہ کو خریدنے کے لیے اپنی ذاتی رقم کی کافی بھاری مقدار پرنٹ کرنا شروع کی، جس سے جرمن مارک کی مالیت میں مزید کمی واقع ہوئی۔

اس صورت حال کے دوران بعض مقامات پر، افراطِ زر کے شرحیں فی یوم %20 سے زیادہ کی رفتار میں بڑھ رہی تھیں۔ جرمن کرنسی اس قدر گر گئی تھی کہ بعض شہریوں نے کاغذی رقم کو بطورِ ایندھن استعمال کیا، کیونکہ یہ لکڑی خریدنے سے زیادہ سستی ہو گئی تھی۔

وینزویلا میں شدید افراطِ زر

وینزویلا نے تیل کے اپنے کثیر ذخائر کی بدولت بیسویں صدی کے دوران ایک مضبوط معیشت برقرار رکھی، لیکن 1980 کی دہائی میں تیل کی کثرت اور اس کے بعد اکیسویں صدی کی اقتصادی زبوں حالی اور بدعنوانی نے شدید سماجی و اقتصادی اور سیاسی بحرانوں کو جنم دیا۔ یہ بحران 2010 میں شروع ہوئے اور اب یہ انسانی تاریخ کے بدترین بحرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔  

وینزویلا میں افراطِ زر کی شرحوں میں فوری اضافہ ہوا تھا، جو 2014 میں %69 کی سالانہ شرح سے 2015 میں %181 تک بڑھ گئی تھیں۔ شدید افراطِ زر کی مدت کا آغاز 2016 میں ہوا، اور سال کے آخر میں افراطِ زر %800 تک پہنچ گئی، اور اس کے بعد 2017 میں %4,000 اور 2019 کی شروعات میں %2,600,000 سے زیادہ تک پہنچ گئی۔

2018 میں، صدر Nicolás Maduro نے اعلان کیا کہ نئی کرنسی (خودمختار بولیوار) کا اجراء کیا جائے گا، تاکہ 1/100,000 کی شرح پر موجودہ بولیوار کو تبدیل کرتے ہوئے شدید افراطِ زر کا مقابلہ ہو سکے۔ پس، 100,000 بولیوارز مل کر 1 خودمختار بولیوار بن گئے۔ تاہم، اس قسم کی حکمت عملی کی کارکردگی پر کافی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ماہرِ معاشیات Steve Hanke کا بیان ہے کہ صفر کا خاتمہ کرنا "ایک بہترین چیز" ہے اور "اس کی اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک کہ آپ اقتصادی پالیسی تبدیل نہیں کر لیتے۔"


زمبابوے میں شدید افراطِ زر

1980 میں زمبابوے کی آزادی کے بعد، اس کے ابتدائی سالوں میں ملک کی اقتصادی حالت کافی مستحکم تھی۔ تاہم، صدر Robert Mugabe کی حکومت نے 1991 میں ESAP نامی پروگرام (اکنامک اسٹرکچرل ایڈجسمنٹ پروگرام) شروع کیا، جو زمبابوے کی اقتصادی تباہی کی مرکزی وجہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ESAP کے ساتھ، اتھارٹیز کی انجام کردہ زمینی اصلاحات کھانے پینے کی اشیاء کی پیداوار میں نمایاں کمی کا سبب بنیں، جس نے ایک بڑے اقتصادی اور سماجی بحران کو جنم دیا۔

1990 کی دہائی کے آخری حصے میں زمبابوے کے ڈالر (ZWN) نے عدم استحکام کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا، اور 2000 کی دہائی کی شروعات میں شدید افراطِ زر کی صورت حال کا آغاز پوا۔ 2004 میں افراطِ زر کی سالانہ شرحیں %624، 2006 میں %1,730، اور جولائی 2008 میں %231,150,888 تک پہنچ گئیں۔ ملک کے مرکزی بینک کے فراہم کردہ ڈیٹا کی عدم موجودگی کی وجہ سے، جولائی کے بعد شرحوں کی بنیاد نطریاتی تخمینوں پر تھی۔ 

پروفیسر Steve H. Hanke کے حساب و کتاب کے مطابق، نومبر 2008 میں زمبابوے کی شدید افراطِ زر، 89.7 سیکسٹیلین فیصد کی سالانہ شرح کے ساتھ اپنے عروج پر تھی، جو فی ماہ 79.6 بلین فیصد، یا فی یوم %98 کے برابر ہے۔

اکیسویں صدی میں شدید افراطِ زر کو جھیلنے والا پہلا ملک، زمبابوے تھا اور تاریخ میں (ہنگری کے بعد) اس کی دوسری بدترین افراطِ زر کی صورت حال بھی دیکھی گئی۔ 2008 میں، ZWN کو آفیشل سطح پر بند کر دیا گیا، اور 'قانونی ٹینڈر' کے طور پر غیر ملکی کرنسیوں کو اپنا لیا گیا۔


کرپٹو کرنسیز کا استعمال

چونکہ Bitcoin اور دیگر کرپٹو کرنسیز مرکزی سسٹمز پر منحصر نہیں ہوتیں، چنانچہ ان کی مالیت کا تعین حکومتی یا مالیاتی اداروں کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ بلاک چین ٹیکنالوجی اس چیز کو یقینی بناتی ہے کہ نئے کوائنز کے اجراء کا عمل پہلے سے طے شدہ شیڈول پر عمل کرتا ہے اور ہر یونٹ منفرد ہوتا ہے اور نقالی سے مزاحم ہوتا ہے۔ 

کرپٹو کرنسیز کی مقبولیت میں فوری اضافے کی چند ایک وجوہات موجود ہیں - بالخصوص وینزویلا جیسے ممالک میں، جو شدید افراطِ زر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسی ہی مثالیں زمبابوے میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں ڈیجیٹل کرنسیز کی پیئر ٹو پیئر ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

کچھ ممالک میں اتھارٹیز، حکومتی تقویت یافتہ کرپٹو کرنسی کے تعارف سے منسلک امکانات اور خطروں کو روایتی فیاٹ کرنسی سسٹم کے ایک ممکنہ متبادل کے طور پر سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ سویڈن کا مرکزی بینک صفِ اول میں ہے۔ دوسری قابل ذکر مثالوں میں سنگاپور، کینیڈا، چین، اور امریکہ کے مرکزی بینکس شامل ہیں۔ اگرچہ بہت سے مرکزی بینکس بلاک چینز کو آزما رہے ہیں، تاہم یہ سسٹمز لازمی طور پر مانیٹری پالیسی کے ضمن میں کسی نئے دور کو تخلیق نہیں کریں گے، کیونکہ Bitcoin کی طرح ان کی کرپٹو کرنسیز میں محدود یا مقررہ سپلائی کے موجود ہونے کا امکان نہیں ہے۔


حتمی خیالات

اگرچہ شدید افراطِ زر کے مواقع عملی طور پر مشاہدے میں کم ہی آتے ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ سیاسی یا سماجی عدم استحکام کی نسبتاً مختصر مدت، فوری طور پر روایتی کرنسیز کی مالیت میں کمی کا سبب بنتی ہے۔ کسی ملک کی ایک ہی برآمد کی کم طلب بھی ایک اہم سبب ہو سکتی ہے۔ کرنسی کی مالیت میں ایک مرتبہ کمی آ جانے کے بعد، قیمتوں میں فوری اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بالآخر ایک گھن چکر شروع ہو جاتا ہے۔ کئی حکومتوں نے اس مسئلے کے سدِ باب کے لیے مزید رقم کو پرنٹ کیا ہے، لیکن یہ عمل ناکارہ بھی ثابت ہوا ہے اور صرف کرنسی کی مجموعی مالیت میں مزید کمی لانے کا سبب بنا ہے۔ یہ امر نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ روایتی کرنسی پر اعتماد کم ہونے کی وجہ سے، کرپٹو کرنسی پر اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ مستقبل کے لیے اس چیز کے مضمرات نہایت قوی ہو سکتے ہیں کہ عالمی سطح پر پیسے کو کیسے دیکھا جاتا ہے اور اس کی نظم کاری کس طرح سے ہوتی ہے۔