جمود کیا ہے؟
امواد کا جدول
تعارف
جمود کیا ہے؟
معاشی جمود بمقابلہ افراط زر
معاشی جمود کب واقع ہوتا ہے؟
آپ معاشی جمود کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟
معاشی جمود کرپٹو کی مارکیٹ پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے؟
1973 کے تیل کے بحران میں معاشی جمود
خلاصہ
جمود کیا ہے؟
ہوم
آرٹیکلز
جمود کیا ہے؟

جمود کیا ہے؟

نو آموز
شائع کردہ May 20, 2022اپڈیٹ کردہ Sep 28, 2022
8m

TL؛DR

جمود تب واقع ہوتا ہے جب کسی معیشت کو بے روزگاری کی اونچی شرح سمیت انجماد یا منفی بڑھوتری (کساد بازاری) اور بڑھتی ہوئی قیمتوں (افراط زر) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کساد بازاری اور افراط زر سے انفرادی طور پر نمٹنے کی حکمت عملیاں موجود ہیں، لیکن چونکہ ان کے متضاد اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان کا یکجا ہونے جمود پر قابو پانے کو مشکل بنا دیتا ہے۔


تعارف

ایک طرف، معاشی انجماد یا منفی بڑھوتری کا حل کمپنیز کے لیے رقم ادھار لینے کو آسان بنانے ( کم تر شرح سود) کے لیے رقم کی سپلائی میں اضافہ کر کے نکالا جا سکتا ہے۔ زیادہ دستیاب رقم کا نتیجہ توسیع اور زیادہ شرح روزگار کی صورت میں نکلتا ہے، جس سے مہنگائی پر مؤثر طور پر قابو پایا جا سکتا ہے یا اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

اس کے برعکس، ماہرین اقتصادیات اور پالیسی ساز اکثر بڑھتے ہوئے افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے معاشی سرگرمیوں میں کمی لانے کے لیے رقم کی سپلائی کم کر دیتے ہیں۔ یہ شرح سود زیادہ کر کے، رقم ادھار لینے کو مزید مشکل بنا کر کیا جا سکتا ہے۔ کاروبار اور صارفین ادھار کم لیتے ہیں اور کم خرچ کرتے ہیں، اور کم شدہ مانگ قیمتوں میں اضافے کے رکنے کا سبب بن جاتا ہے۔

تاہم، جب کوئی معیشت جمود کا شکار ہوتی ہے، تو ہر دو طرف کی صورتحال بے حد خراب ہو جاتی ہے: بڑھتی ہوئی افراط زر کے ساتھ مہنگائی کی آمیزش۔ آئیں ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ جمود کیا ہے، اس کی عمومی وجوہات، اور ممکنہ حل کیا ہیں۔


جمود کیا ہے؟

جمود ایک میکرو اکنامک تصور جسے پہلی مرتبہ 1965 میں آئین میکلیوڈ نے متعارف کیا تھا، جو کہ برطانوی سیاست دان اور قومی خزانے کا نگران تھا۔ یہ نام  انجماد اور  افراط زر کا مجموعہ ہے، جو کہ معیشت کی ایسی صورتحال کی وضاحت کرتا ہے جس میں معیشت کو انتہائی کم یا منفی ترقی کا سامنا ہوتا ہے اور بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح صارفی قیمتوں میں اضافے (افراطِ زر) کے ساتھ یکجا ہو جاتی ہے۔

روایتی معاشی کنٹرولز جو کہ کسی ایک مسئلےکو انفرادی طور پر دور کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں وہ دوسرے مسئلے کو سنگین بنا دیتے ہیں، جس سے کسی بھی حکومت یا مرکزی بینک کے لیے معاشی جمود سے نمٹنا کافی پیچیدہ بن جاتا ہے۔ عموماً، بے روزگاری کی اونچی سطوحات اور ترقی افراط زر کے ساتھ مثبت طور پر ارتباط پذیر ہوتے ہیں، لیکن معاشی جمود کی صورت میں ایسا نہیں ہوتا۔ 

معاشی ترقی کو عموماً کسی قوم کے گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ (GDP) میں  ناپا جاتا ہے، جو کہ شرحِ روزگار سے براہِ رست متعلق ہوتا ہے۔ جب GDP بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر رہا ہو،  تو شدید معاشی جمود کا نتیجہ معاشی بحران کی صورت میں کل سکتا ہے۔


معاشی جمود بمقابلہ افراط زر

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، کہ معاشی جمود افراط زر اور معاشی انجماد یا منفی ترقی کے یکجا ہونے کو کہتے ہیں۔ اگرچہ افراط زر کی تعریف مختلف طریقوں سے کی جا سکتی ہے، لیکن اس سے اکثر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ مراد ہوتا ہے۔ ہم افراط زر کو کرنسی کی قوت خرید میں کمی کے طور پر بھی بیان کر سکتے ہیں۔ 


معاشی جمود کب واقع ہوتا ہے؟

مختصراً، معاشی جمود اس وقت واقع ہوتا ہے جب بیک وقت رقم کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے اور معیشت سست ہو جاتی ہے اور سامان اور خدمات کی رسد کم ہو جاتی ہے۔ معاشی جمود کی اصل وجوہات گزشتہ تناظر اور مختلف معاشی نظریات کے حساب سے مختلف ہوتی ہیں۔ معاشی جمود کو مختلف نظریات اور آرا کی روشنی میں مختلف طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، بشمول مانیٹرسٹ، کینیزین، اور نئے کلاسیکل ماڈلز کے۔ آئیں چند مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

مانیٹری اور مالی پالیسی کا تصادم

مرکزی بینکس جیسے کہ US Federal Reserve رقم کی سپلائی کے ذریعے معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کنٹرولز کو مانیٹری پالیسی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ حکومتیں بھی اخراجات اور ٹیکس پالیسیز کے ذریعے معیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں جنہیں مالی پالیسی کہا جاتا ہے۔ تاہم، متصادم مالی اور مانیٹری پالیسی کا نتیجہ افراطِ زر اور سست معاشی ترقی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ پالیسیز کا کوئی بھی امتزاج جو کہ صارفی اخراجات کو کم کرتے ہوئے رقم کی سپلائی میں اجافہ کرے اور رفتہ رفتہ معاشی جمود کا سبب بن سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، ایک حکومت ٹیکسز مین اضافے کر کے اپنے لوگوں کی قابل خرچ آمدنی میں کمی لا سکتی ہے۔ مرکزی بینک بیک وقت  مقداری طور پر سہولت فراہم کرنے(’’پیسوں کی چھپائی‘‘) یا شرح سود میں کمی میں مصورف ہو سکتا ہے۔ حکومتی پالیسی ترقی پر منفی طور پر اثر اندا ہو گی جبکہ مرکزی بینک رقم کی سپلائی میں اضافہ کر دیتی ہے، جو کہ عموماً افراطِ زر کا سبب بن جاتی ہے۔

فیاٹ کرنسی کا تعارف

اس سے قبل، اکثر بڑی معیشتیں اپنی کرنسیز کو سونے کی کسی مقدار کے استھپیگ کر دیتی تھیں۔ اس عمل کو سونے کے معیار کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد اکثر جگہوں پر یہ روایت متروک ہو گئی۔ سونے کے معیار کو چھوڑنے اور اسے فیاٹ کرنسی سے تبدیل کرنے کی وجہ سے رقم کی سپلائی پر عائد کسی بھی قسم کی حدود ختم ہو گئیں۔ اگرچہ اس سے مرکزی بینکس کے لیے معیشت پر قابو رکھنے میں سہولت ہوئی، لیکن اس سے افراطِ زر کو سطوحات کو نقصان پہنچے کی صورت میں، قیمتوں مین اضافے کا خطرہ بھی پیدا ہوا۔

سپلائی کی قیمتوں میں اضافہ

اشیا اور خدمات کی پیداواری لاگت میں تیزی سے اضافہ بھی معاشی جمود کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ تعلق خاص طور پر توانائی کے شعبے لیے درست ثابت ہوتا ہے اور اسے سپلائی شاک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عام طور پر تیل کی قیمتوں کی وجہ سے، صارفین کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر اشیا کی پیداوار میں زیادہ لاگت آتی ہے اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اور صارفین کو حرارتی، نقل و حمل، اور دیگر توانائی سے متعلق اخراجات کی وجہ سے کم قابل خرچ آمدنی کی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے، تو معاشی جمود کے واقع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔


آپ معاشی جمود کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟

معاشی جمود کا مقابلہ مالی اور مانیٹری پالیسی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ تاہم، درست پالیسیوں کا مطلق انحصار معاشی مکتب فکر پر ہوتا ہے۔ 

مانیٹرسٹس

مانیٹرسٹ (معاشی ماہرین جن کا ماننا ہے کہ رقم کی سپلائی کو کنٹرول کرنا سب سے کلیدی چیز ہے) یہ دلیل پیش کریں گے کہ سب سے اہم عنصر جس کا کنٹرول کیا جانا ضروری ہے وہ افراط زر ہے۔ 

اس صورت میں، ایک مانیٹرسٹ پہلے رقم کی سپلائی میں کمی لائے گا، جس سے عمومی اخراجات میں کمی آئے گی۔ اس سے مانگ میں کمی ہو گئی اور اشیا اور سروسز کی قیمت میں کمی آئے گی۔ تاہم، اس کا نقصان یہ ہے کہ اس پالیسی سے ترقی میں کوئی بہتری نہیں آتی ہے۔ ترقی کے مسئلے سے بعد میں آسانی مانیٹری پالیسی سمیت مالی پالیسی کے ذریعے نمٹنا ہو گا۔

سپلائی کی جانب جھکاؤ والے اقتصادی ماہرین

ایک اور نظریہ یہ ہے کہ قیمتوں میں کمی اور اثر پذیری میں بہتری کے ذریعے معیشت کی سپلائی میں اضافہ کیا جائے۔ توانائی کی قیمت پر کنٹرولز (اگر ممکن ہو)، بہتر کارکردگی پر سرمایہ کاری، اور پروڈکشن میں رعایت اخراجات میں کمی میں مدد دیں گے اور معیشت کے مجموعی سپلائی میں اضافہ کریں گے۔ اس سے صارفین کے لیے قیمتیں کم ہوجاتی ہی، معاشی نتائج میں جان پیدا ہو جاتی ہیں، اور بے روزگاری میں کمی آتی ہے۔

فری مارکیٹ حل

کچھ اقتصادی ماہرین کا مانن ہے کہ معاشی جمود کا بہترین حل یہ ہے کہ اسے فری مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے۔ سپلائی اور ڈیمانڈ بالآخر بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تصفیہ کری لیں گے کیونکہ صارفین سامان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ امر مانگ میں کمی اور کم افراط زر کا سبب بنے گا۔ 

فری مارکیٹ بھی موثر طور پر کام کرنے والوں کو مختص کرے گا اور بے روزگاری میں کمی لائے گا۔ تاہم، یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہونے میں کئی سال یا دہائی لے سکتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ ناسازگار حالات میں جینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جیسے کہ کینیز نے ایک بار کہا تھا کہ، ’’طویل المدتی تناظر میں، ہم سب مر جائیں گے۔‘‘


معاشی جمود کرپٹو کی مارکیٹ پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے؟

 کرپٹو پر معاشی جمود کے اثرات کو بعینہ واضح کرنا مشکل ہے۔ تاہم، اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ مارکیٹ کی دیگر صورتحال یکساں رہے گی ہم کچھ بنیادی مفروضات قائم کر سکتے ہیں۔

نہ ہونے کے برابر یا منفی ترقی

بمشکل بڑھتی ہوئی یا سکڑتی ہوئی معیشت آمدنی کی سطح کو انجماد تک پہنچا دیتی ہے یا یہاں تک کہ کمی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس صورت میں، صارفین کے پاس سرمایہ کاری کے لیے کم رقم ہے۔ اس سے کرپٹو کی خریداری میں کمی اور فروخت میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کو روزانہ کے اخراجات کے لیے رقم تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سست یا منفی معاشی ترقی بڑے سرمایہ کاروں کو بھی مائل کرتی ہے کہ وہ زیادہ خطرے والے اثاثوں، بشمول اسٹاکس اور کرپٹو کرنسیز کا سامنا کام سے کریں۔

معاشی جمود کے خلاف حکومتی اقدامات

عام طور پر ایک حکومت پہلے افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گی اور پھر ترقی اور بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کرے گی۔ رقم کی فراہمی کو کم کر کے افراط زر پر قابو پایا جا سکتا ہے، جس کا ایک طریقہ سود کی شرح میں اضافہ ہے۔

اس سے لیکویڈیٹی کم ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ اپنا پیسہ بینکوں میں رکھتے ہیں، اور ادھار لینا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ شرحوں میں اضافے کی وجہ سے، زیادہ خطرے اور زیادہ منافع والی سرمایہ کاری کم دلکش بن جاتی ہے۔ اس لیے، کرپٹو کو، بڑھتی ہوئی شرح سود اور کم رقم کی فراہمی کے دوران مانگ اور قیمتوں میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جب حکومت مہنگائی کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو وہ ممکنہ طور پر ترقی کو تیز کرنا چاہے گی۔ ایسا عام طور پر مقداری نرمی اور شرح سود میں کمی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں، کرپٹو مارکیٹس پر اِن دی منی سپلائی میں اضافے کی وجہ سے مثبت اثرات مثبت ہوں گے۔

افراطِ زر میں اضافہ

بہت سے سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ Bitcoin افراطِ زر کی بڑھتی ہوئی شرحوں کے خلاف ایک اچھا ہیج ثابت ہو سکتا ہے۔ زیادہ، بڑھتی ہوئی افراط زر کے ساتھ، اپنی دولت کو بغیر سود کے فیاٹ میں رکھنے سے اس کی حقیقی قدر کم ہو جاتی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے، بہت سے لوگوں نے اپنی طویل مدتی قوت خرید کو محفوظ رکھنے اور یہاں تک کہ منافع کمانے کے لیے Bitcoin کی جانب توجہ مبذول کی ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ سرمایہ کار BTC کو اس کے محدود اجراء اور سپلائی کی وجہ سے قیمت محفوظ رکھنے کا ایک اچھا ذریعے سمجھتے ہیں۔

گزشتہ طور پر، ہیجنگ کی یہ حکمت عملی ان سرمایہ کاروں کے لیے بہت ثابت ہوئی ہو گی جنہوں نے پچھلے سالوں میں Bitcoin اور دیگر کرپٹو کرنسیز جمع کی ہیں۔ خاص طور پر، افراط زر اور اقتصادی ترقی کے ادوار کے دوران یا اس کے بعد۔ تاہم، افراطِ زر کے خلاف ہیج کے طور پر کرپٹو کا استعمال کم وقت کے دورانیوں، خاص طور پر معاشی جمود کے دورانیوں، میں بہتر ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے کرپٹو اور اسٹاک مارکیٹس کے درمیان بڑھتا ہوا باہمی ارتباط۔


1973 کے تیل کے بحران میں معاشی جمود

1973 میں، Organization of Arab Petroleum Exporting Countries (OPEC) نے چند ممالک کے منتخب گروپ پر تیل کی پابندی کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ Yom Kippur جنگ میں اسرائیل کی حمایت کا ردعمل تھا۔ تیل کی سپلائی میں ڈرامائی کمی کے ساتھ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کا نتیجہ سپلائی چین کی قلت اور صارفی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ہوا۔ اس سے افراطِ زر کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

USA اور UK جیسے ممالک میں، مرکزی بینکوں نے اپنی معیشت میں بہتری لانے کے لیے شرحِ سود میں کمی کی۔ کم شرحِ سود قرضہ لینے کو آسان بناتی ہے اور بچت کی بجائے خرچ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ تاہم، مہنگائی کو کم کرنے کا عام طریقہ کار سود کی شرحوں میں کمی اور صارفین کو بچت کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

تیل اور توانائی کی لاگتیں صارفی اخراجات کا ایک بڑا حصہ ہیں، اور جب شرح سود میں کمی بھی معیشت میں خاطر خواہ حرکت پیدا نہ کر سکی، تو کئی مغربی معیشتوں کو زیادہ افراطِ زر اور مجنمد معیشت کا سامنا کرنا پڑا۔


خلاصہ

معاشی جمود اقتصادی ماہرین اور پالیسی میکرز کے لیے ایک منفرد صورتحال پیدا کر دیتی ہے کیونکہ افراطِ زر اور منفی ترقی عموماً ایک ساتھ واقع نہیں ہوتے۔ انجماد سے نمٹنے کے طریقے اکثر افراطِ زر کا سبب بنتے ہیں، جبکہ افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملیاں سست یا منفی اقتصادی ترقی کا باعث بن سکتی ہیں۔ چنانچہ معاشی جمود کے دنوں میں، میکرو اکنامک تناظر اور اس کے متعدد عوامل جیسے کہ رقم کی سپلائی، شرح سود، سپلائی اور ڈیمانڈ، اور شرح روزگار بھی زیر غور آنے چاہیئیں۔