بلاک چین کس طرح سے کام کرتی ہے؟
بلاک چین کس طرح سے کام کرتی ہے؟
ہومآرٹیکلز
بلاک چین کس طرح سے کام کرتی ہے؟

بلاک چین کس طرح سے کام کرتی ہے؟

جدید
Published Dec 9, 2018Updated May 11, 2022
5m

بلاک چین کیا ہے؟

مختصراً، بلاک چین، ڈیٹا ریکارڈز کی ایک ایسی فہرست ہے جو ایک غیر مرکزی ڈیجیٹل لیجر کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا بلاکس کی صورت میں منظم کیا جاتا ہے، جسے تاریخ وارانہ انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے اور اسے کرپٹو گرافی کے ذریعے محفوظ بنایا جاتا ہے۔ 
اس بلاک چین کا سب سے پرانا ماڈل سنہ 1990 کے اوائل ایام میں تخلیق کیا گیا تھا جب Stuart Haber نامی سائنسدان اور W. Scott Stornetta نامی فزیسسٹ نے بلاکس کی ایک چین میں کرپٹو گرافک تکانیک کو استعمال کیا تاکہ ڈیجیٹل دستاویزات ہیر پھیر سے بچائی جا سکیں۔ 
Haber اور Stornetta کے کام نے فوری طور پر کرپٹو کے دیگر سائنسدانوں اور کرپٹو گرافی کے دیگر شائقین کو متاثر کیا - جس کا نتیجہ الیکٹرانک کیس کے غیر مرکزی سسٹم (یا سادہ الفاظ میں پہلی کرپٹو کرنسی)، یعنی Bitcoin کی تخلیق کی صورت میں نکلا۔

اگرچہ بلاک چین ٹیکنالوجی کرپٹو کرنسیز سے پرانی ہے، تاہم 2008 میں Bitcoin کی تخلیق کے بعد ہی اس کی صلاحیتوں کو مانا گیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک، بلاک چین ٹیکنالوجی میں دلچسپی کے اندر بتدریج اضافہ ہوا ہے اور کرپٹو کرنسیز کو اب ایک بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

بلاک چین ٹیکنالوجی عموماً کرپٹو کرنسی کی ٹرانزیکشنز ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، تاہم یہ ڈیجیٹل ڈیٹا کی بہت سی دیگر اقسام کے لیے موزوں ہے اور اس کا اطلاق ایک وسیع پیمانے پر استعمال کی صورتوں میں کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پرانا، محفوظ ترین، اور سب سے بڑا بلاک چین نیٹ ورک Bitcoin کا ہے، جس کو کرپٹو گرافی اور گیم کی تھیوری کے ایک محتاط اور متوازن امتزاج کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔


بلاک چین کس طرح سے کام کرتا ہے؟

کرپٹو کرنسیز کے سیاق و سباق میں، ایک بلاک چین، بلاکس کی ایک مستحکم چین پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں سے ہر ایک میں پہلے سے تصدیق شدہ ٹرانزیکشنز کی ایک فہرست محفوظ ہوتی ہے۔  جیسا کہ ایک بلاک چین نیٹ ورک دنیا بھر میں موجود کمپیوٹرز کے ایک وسیع سلسلے کی طرف سے برقرار رکھا جاتا ہے، لہٰذا یہ ایک غیر مرکزی ڈیٹا بیس (یا لیجر) کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر شریک (نوڈ) بلاک چین ڈیٹا کی ایک کاپی کو برقرار رکھتا ہے، اور یہ دونوں اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ایک دوسرے سے مواصلت انجام دیتے ہیں کہ یہ سب ایک ہی صفحے (یا بلاک) پر موجود ہوں۔
لہٰذا، بلاک چین ٹرانزیکشنز ایک پیئر ٹو پیئر عالمی نیٹ ورک کے اندر عمل میں آتی ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو Bitcoin کو ایک ایسی غیر مرکزی ڈیجیٹل کرنسی بنا دیتی ہے، جوکہ سرحدوں سے عاری، اور سینسرشپ مزاحم ہوتی ہے۔ مزید براں، زیادہ تر بلاک چین سسٹمز سود سے مبرا سمجھے جاتے ہیں کیونکہ انہیں کسی قسم کا سود درکار نہیں ہوتا۔ Bitcoin کے اختیار میں کوئی واحد حکام نہیں۔
کسی بھی بلاک چین کا ایک مرکزی حصہ مائننگ کا عمل ہوتا ہے، جوکہ ہیشنگ کے الگورتھمز پر منحصر ہوتا ہے۔ Bitcoin، SHA 256 الگورتھم (سکیور ہیش الگورتھم 256 bits) کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے لیے کسی بھی قسم کی طوالت کا حامل ان پٹ درکار ہوتا ہے اور ایک ایسے آؤٹ پٹ کو پیدا کرتا ہے جس کی طوالت ہمیشہ ایک ہی جیسی ہو گی۔ پیدا ہونے والا آؤٹ پٹ "ہیش" کہلاتا ہے، اور اس صورت میں، ہمیشہ 64 کرداروں (256 bits) پر مشتمل ہوتا ہے۔

لہٰذا ایک جیسے ان پٹ کا نتیجہ ایک ہی جیسے آؤٹ پٹ کی صورت میں نکلے گا، قطع نظر اس کے کہ یہ عمل کتنی بار دہرایا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر اس ان پٹ میں معمولی سی بھی تبدیلی آتی ہے، تو آؤٹ پٹ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ لہٰذا، ہیش فنکشنز فیصلہ کن ہوتے ہیں، اور کرپٹو کرنسی کی دنیا میں، ان میں سے زیادہ تر یکطرفہ ہیش کے فنکشن کی حیثیت سے تیار کیے جاتے ہیں۔

یکطرفہ فنکشن سے مراد یہ ہے کہ آؤٹ پٹ سے اس بات کا حساب لگانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے کہ ان پٹ کیا تھا۔ اس بات کا صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کہ ان پٹ کیا تھا، تاہم مکمل طور پر درست اندازہ لگانے کا امکان بہت کم ہے۔ یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے Bitcoin کی بلاک چین محفوظ ہے۔

اب جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ الگورتھم کیا کرتا ہے، تو آئیے ٹرانزیکشن کی ایک سادہ سی مثال لے کر اس امر کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ بلاک چین کس طرح کام کرتی ہے۔

فرض کریں ہمارے پاس Alice اور Bob اپنے اپنے Bitcoin بیلنس کے ساتھ موجود ہیں۔ فرض کریں کہ Alice نے Bob کو 2 Bitcoins دینے ہیں

Bob کو 2 Bitcoin دینے کے لیے Alice اس ٹرانزیکشن کے ساتھ ایک پیغام کو نشر کرتی ہے جو وہ نیٹ ورک پر موجود تمام مائنرز کو کرنا چاہتی ہے۔
اس ٹرانزیکشن میں، Alice مائنرز کو Bob کا ایڈریس اور Bitcoin کی صورت میں وہ رقم دیتی ہے جسے وہ بھیجنا چاہے گی، اور ساتھ ہی ساتھ ایک ڈیجیٹل دستخط اور اپنی عوامی کلید بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ دستخط Alice کی نجی کلید سے بنے ہوتے ہیں اور مائنرز اس بات کی توثیق کر سکتے ہیں کہ بلا شبہ، Alice ہی ان کوائنز کی مالک ہے۔

ایک مرتبہ مائنرز کو یہ یقین ہو جائے کہ ٹرانزیکشن درست ہے، تو وہ دیگر کئی ٹرانزیکشنز کے ساتھ ان کو ایک بلاک پر مرتب کر دیں گے اور بلاک مائن کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ عمل بلاک کو SHA-256 الگورتھم سے گزار کر انجام دیا جاتا ہے۔ اس امر کے لیے کہ آؤٹ پٹ کو درست تصور کیا جائے، یہ لازم ہے کہ اس کا آغاز 0 کی ایک مخصوص تعداد سے ہو۔ 0 کی درکار تعداد کا انحصار اس بات پر ہے کہ آخر کیا چیز وہ "مشکل" کہلاتی ہے جو اس بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہے کہ نیٹ ورک پر کس قدر کمپیوٹنگ پاور موجود ہے۔

شروعات میں 0 کی مطلوبہ تعداد کے ساتھ ایک آؤٹ پٹ ہیش پیدا کرنے کے لیے، مائنرز، بلاک کو الگورتھم سے گزارنے سے قبل اس کے اندر "nonce" نامی شئے شامل کرتے ہیں۔ جیسا کہ ان پٹ میں معمولی سی تبدیلی بھی آؤٹ پٹ بدل دیتی ہے، لہٰذا مائنرز اس وقت تک بے ترتیب انداز میں nonces کو آزماتے رہتے ہیں جب تک کہ انہیں آؤٹ پٹ کا ایک درست ہیش نہ مل جائے۔

ایک دفعہ بلاک مائن ہو جانے کے بعد، مائنر، حال ہی میں مائن ہونے والے اس بلاک کو دیگر تمام مائنرز کے لیے نشر کر دیتا ہے۔ پھر وہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے چیک کرتے ہیں کہ آیا بلاک درست ہے تاکہ وہ اسے اپنے پاس موجود بلاک چین کی کاپی میں شامل کر سکیں اور یہ کہ آیا ٹرانزیکشن مکمل ہو چکی ہے۔ تاہم بلاک کے اندر، مائنرز کو پچھلے بلاک سے حاصل ہونے والے آؤٹ پٹ ہیش کو بھی شامل کرنا ہوتا ہے تاکہ تمام بلاکس یکجا کیے جا سکیں، جسے بلاک چین کہا جاتا ہے۔ یہ امر اسے ایک اہم حصہ بناتا ہے کہ اس سسٹم میں بھروسے کا عمل کیسے کام کرتا ہے۔

ہر مائنر کے پاس اپنے کمپیوٹر میں بلاک چین کی اپنی کاپی موجود ہوتی ہے اور ہر فرد اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ جو بھی بلاک چین سب سے زیادہ کمپیوٹیشنل سرگرمیوں کی حامل ہوتی ہے، وہی سب سے لمبی بلاک چین ہوتی ہے۔ اگر کوئی مائنر کسی پچھلے بلاک میں ٹرانزیکشن تبدیل کرتا ہے، تو اس بلاک کے لیے آؤٹ پٹ کا ہیش تبدیل ہو جائے گا جوکہ بلاکس کے ہیشز کے ساتھ مربوط ہونے کی وجہ سے اس کے بعد تمام ہیشز کی تبدیلی کا سبب بنے گا۔ مائنر کو پورا کام دوبارہ سے انجام دینا ہو گا تاکہ کسی کو بھی یہ بات قبول کرنے کے قابل بنا سکے کہ درست بلاک چین اسی کی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی مائنر دھوکے بازی سے کام لینا چاہے، تو اسے نیٹ ورک کی 50% کمپیوٹنگ پاور درکار ہو گی جوکہ تقریباً ایک ناممکن بات ہے۔ نیٹ ورک پر اس قسم کے حملے 51% حملے کہلاتے ہیں۔
بلاکس کی تخلیق کے لیے کمپیوٹرز سے کام کروانے والا ماڈل پروف آف ورک (PoW) کہلاتا ہے، نیز پروف آف اسٹیک (PoS) جیسے دیگر ماڈلز بھی موجود ہیں جنہیں اتنی زیادہ کمپیوٹنگ پاور درکار نہیں ہوتی اور یہ اس لیے تیار کیے جاتے ہیں تاکہ یہ کم بجلی کے ساتھ مزید صارفین کے لیے وسعت پیدا کر سکیں۔