بلاک چین کے استعمال کی صورتیں
بلاک چین کے استعمال کی صورتیں
ہوم
آرٹیکلز
بلاک چین کے استعمال کی صورتیں

بلاک چین کے استعمال کی صورتیں

نو آموز
شائع کردہ Feb 27, 2019اپڈیٹ کردہ Nov 11, 2022
5m

بلاک چین کے حوالے سے نظریات پہلی مرتبہ 1991 کے اوائل میں متعارف کروائے گئے، لیکن 2009 میں Bitcoin تخلیق کیے جانے تک ٹیکنالوجی نے مزید توجہ حاصل کرنے کا آغاز نہیں کیا تھا۔ Bitcoin کو ایک شخص یا لوگوں کے ایک گروپ نے Satoshi Nakamoto کا فرضی نام استعمال کرتے ہوئے تخلیق کیا تھا۔ حالاںکہ تاحال معلوم نہیں ہو سکا کہ Satoshi Nakamoto کون ہے، تاہم ان کی ٹیکنالوجیکل اختراع نے دنیا کا پیسہ بنانے اور اسے استعمال کرنے کے طریقے پر ایک بڑا اثر ڈالا ہے۔

اکثر بلاک چینز ایک ایسے منقسم لیجر کے طور پر کام کرتی ہیں جو کرپٹو گرافی کے استعمال کے ذریعے ڈیجیٹل ڈیٹا کو ریکارڈ اور محفوظ کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی کو اکثر ڈیجیٹل کرنسیز (کرپٹو کرنسیز) کے نیٹ ورکس پر نافذ کیا جاتا ہے، لیکن اس کی غیر مرکزی اور محفوظ نوعیت اس کو کئی دیگر انڈسٹریز کے لیے ایک مضبوط ٹول بناتی ہے۔

جوں ہی کرپٹو کرنسی اسپیس میں اضافہ ہوتا ہے اور بلاک چین پر مشتمل حل بہتر ہوتے ہیں، تب یہ سیکھنا نہایت اہم ہے کہ اس اختراعی ٹیکنالوجی کو مختلف صورت حالوں میں کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔

اعتماد اور مہنگی سکیورٹی کی ضرورت کو ختم کرتے ہوئے، بلاک چین بہتر کارکردگی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، غیر مرکزی نیٹ ورک کی شفاف ڈیٹا بیس کے طور پر تشکیل کاری کی جا سکتی ہے، جس کو تمام شرکت کنندگان دیکھ سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے، بلاک چین ٹیکنالوجی تقسیم شدہ لیکن پھر بھی مشترکہ ریکارڈ تخلیق کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہ اکثر انڈسٹریز اور تنظیموں (مثلاً، چیریٹی، سپلائی چین، ہیلتھ کیئر) میں کارکردگی اور سکیورٹی کو بہتر بنانے کے مواقعوں کی پیشکش کرتا ہے۔


خیرات

دنیا بھر میں بہت سی خیراتی تنظیمیں وسائل کی نظم کاری، عملی شفافیت، اور مؤثر گورننس کے چیلینجز سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بلاک چین ٹیکنالوجی یقینی طور پر ان فاؤنڈیشنز کو فنڈز وصول کرنے اور ان کا نظم کرنے کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے۔

ہمارے پاس پہلے سے بلاک چین ٹیکنالوجی کا چیریٹی کے ساتھ انضمام کرنے کی قابل غور مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، بلاک چین چیریٹی فاؤنڈیشن (BCF) ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو غربت اور عدم مساوات کا مقابلہ کرنے کے لیے مستحکم ترقی کے اہداف کے لیے کام کرتی ہے، جس کا ہدف دنیا بھر میں بلاک چین کی پیش کردہ خدمت خلق کو فعال کرنا ہے۔


چیریٹی کے اندر بلاک چین کے استعمال کی صورتوں کے بارے میں مزید پڑھیں


سپلائی چین

اکثر سپلائی چین نیٹ ورکس شفافیت اور کارکردگی کے متعلق کئی دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ موجودہ نظم کاری کا سسٹم اب بھی اعتماد پر منحصر ہوتا ہے اور یہ ابھی کمپنیاں اور شامل فریقین کے مابین مکمل انضمام فراہم نہیں کر رہا۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کو سپلائی چین نیٹ ورک کے اندر امواد تخلیق کرنے اور تقسیم کرنے کے مکمل عمل کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک تقسیم شدہ ڈیٹا بیس کسی متعلقہ ڈیٹا کو محفوظ طور پر ریکارڈ کرنے کے لیے موزوں ہو سکتا ہے، جو کہ پروڈکٹس، نیز ادائیگیوں اور ٹرانسپورٹیشن کی شفافیت کی تصدیق کو یقینی بناتا ہے۔


سپلائی چین کے اندر بلاک چین کے استعمال کی صورتوں کے بارے میں مزید پڑھیں


نگہداشتِ صحت

آپریشنل رکاوٹیں، ڈیٹا کے نقائص، اور بیوروکریسی ہیلتھ کیئر انڈسٹری کے لیے اہم مسئلہ ہیں۔ ہیلتھ کیئر مین بلاک چین کے استعمال کی کئی صورتیں ہیں، بشمول سپلائی چین کے ذریعے ادویات کو ٹریک کرنا اور مریض کے ڈیٹا کو نظم کرنا۔

اس کے علاوہ، بلاک چین ہسپتالوں کو خاطر خواہ سکیورٹی کے فوائد کی پیشکش کر سکتا ہے، کیونکہ ان اداروں پر اکثر ہیکرز کی جانب سے حملہ کیا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کے پاس زائد مقدار میں ڈیٹا موجود ہوتا ہے اور یہ اس ڈیٹا پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

کمپنیاں ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈ کو اسٹور کرنے کے طریقہ کار کے طور پر بلاک چین کے استعمال کو دریافت کر رہی ہیں۔ اس طرح کے حل مجموعی اخراجات کو کم کرنے کے علاوہ ڈیٹا کی رازداری اور درستگی کو بہتر بھی بنا سکتے ہیں۔


ہیلتھ کیئر کے اندر بلاک چین کے استعمال کی صورتوں کے بارے میں مزید پڑھیں


اعزازی ادائیگیاں

موسیقار، ویڈیو گیم کے تخلیق کار، اور عموماً فنکار ڈیجیٹل چوری، فریق ثالث ایجنسیوں کے ساتھ خراب تعلقات، یا قابل ادا اعزازیوں کی ادائیگیاں نہ کرنے کے باعث اکثر اس ادائیگی کو حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

بلاک چین ٹیکنالوجی کو ایسا پلیٹ فارم تخلیق کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں تخلیقی ٹیلنٹس کے پاس اس بات کا غیر متغیر اور شفاف ریکارڈ ہوتا ہے کہ ان کے مواد کو کون کرائے پر لے رہا ہے، خرید رہا ہے، اور/یا اسے استعمال کر رہا ہے۔ اس طرح کا پلیٹ فارم اسمارٹ معاہدوں کے ذریعے ادائیگیاں کرنے میں سہولت فراہم کر سکتا ہے – جو کہ بنیادی طور پر خودکار طور پر عمل سر انجام دینے والے ڈیجیٹل معاہدے ہوتے ہیں۔


گورننس

بلاک چین ٹیکنالوجی کے پاس، مزید عمومی، غیر جانبدار اور محفوظ طریقہ کار کے تحت نیٹ ورکس اور آپریشنز کا نظم کرتے ہوئے، کئی مختلف شعبوں میں گورننس کو بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ بلاک چین پر مشتمل سسٹمز کو انتخابات یا دیگر آئینی کارروائیوں کے دوران ووٹنگ فراڈ اور اعتماد کی ضرورت کو ختم کرنے کے ٹول کے طور پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ ان کو کرپشن کے خلاف مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جو کہ متعدد حالات، جیسا کہ ٹیکس جمع کرنے سے لے کر مالی امداد کی تقسیم تک، میں ڈیٹا کی سالمیت اور سراغ رسانی کو بہتر بناتا ہے۔


گورننس کے اندر بلاک چین کے استعمال کی صورتوں کے بارے میں مزید پڑھیں


ادائیگیوں کے حل اور dApps

دنیا میں کسی بھی جگہ رقم بھیجنے کے معاملے میں، بلاک چین نے پہلے ہی خود کو مؤثر ثابت کیا ہے۔ مرکزی بینکس اور ادائیگیوں کے حل کی پیشکش کے مقابلے میں اپنے دوستوں، اہل خانہ، اور دنیا بھر میں موجود دیگر افراد کو کرپٹو کرنسیز بھیجنا پہلے سے ہی سستا اور تیز عمل ہے۔

اس کے علاوہ، مرکزی ویب سائٹس اور ایپس صارفین کو اپنے ڈیٹا کا کنٹرول نہیں دیتی اور اکثر پلیٹ فارم پر ان کا حقیقی قدر لانے کے عوض ان کو انعامات سے نہیں نوازتی ہیں۔ بلاک چین پر مشتمل غیر مرکزی ایپلیکشنز (dApps) درمیانی آدمی کے کردار کو ختم کر دیتی ہیں، ساتھ ہی صارفین کو کم کردہ فیس، بہترین مراعات، اور ٹرانزیکشن کی شاندار کارکردگی سے محظوظ ہونے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں، جبکہ صارفین ڈیجیٹل رقم کو بھیجنے اور وصول کرنے کے قابل بھی ہوتے ہیں۔

جیسا کہ Vitalik Buterin نے ایک بار کہا تھا، کہ بلاک چین حل ثالثین یا مرکزی سسٹمز کی ضرورت کو ختم کرتے ہوئے، لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست طور پر کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

"زیادہ تر ٹیکنالوجیز کارکنان کو معمولی کام تک محدود کرتے ہوئے خودکار بناتی ہیں، جبکہ بلاک چینز مرکز کو خودکار بناتی ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیور کو کام سے نکالنے کے بجائے، بلاک چین Uber کو کام سے نکالتی ہے اور ٹیکسی ڈرائیورز کو صارفین کے ساتھ براہ راست کام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔"


انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)

بلاک چین اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) قدرتی طور پر مماثل ہیں۔ بلاک چین غیر مرکزی ٹیکنالوجی ہے اور IoT نیٹ ورکس کو اکثر مختلف حصوں پر مشتمل ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بلاک چین تنظیموں کو IoT ڈیوائسز، ان کے اکٹھا کردہ ڈیٹا، اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاملات کا غیر متغیر اور شفاف لیجر رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ اپنے سکیورٹی فیچرز اور اپنی کرپٹو کرنسی ایپلیکیشنز میں، بلاک چین مشین ٹو مشین (M2M) ٹرانزیکشنز کے لیے مثالی پلیٹ فارم کی پیشکش کرتا ہے۔

چوںکہ بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو کہ درست اور محفوظ ٹرانزیکشنز فراہم کرنے پر مشتمل ہے، اس سے صرف یہی لگتا ہے کہ احتساب اور ڈیٹا کی درستگی اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اس کا IoT کے ساتھ انضمام کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے بہت ساری فرمز بلاک چین کے پیش کردہ IoT نیٹ ورک میں وسائل شامل کر رہی ہیں۔


IoT کے اندر بلاک چین کے استعمال کی صورتوں کے بارے میں مزید پڑھیں


اختتامی خیالات

منقسم لیجر ٹیکنالوجی کے طور پر، بلاک چین کے پاس نیٹ ورکس اور تنظیموں کو بہتر سکیورٹی، شفافیت، احتساب، اور کارکردگی فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ٹیکنالوجی رازداری کو بہتر بناتی ہے اور اعتماد کی ضرورت کو ختم کرتی ہے۔ یہ انٹرنیٹ آف ویلیو بھی تخلیق کرتی ہے جہاں صارفین سرحدوں سے بالاتر پیئر ٹو پیئر ٹرانزیکشنز کر سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسیز یہیں تک محدود نہیں، بلکہ تمام قسم کی انڈسٹریز اور زندگی کے شعبوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں – فائنانس، زراعت، اور کثیر ڈیٹا سے لے کر حکومت، ووٹنگ، اور قانون تک۔