مالیاتی خطرے کی وضاحت
امواد کا جدول
مالیاتی خطرہ کیا ہے؟
مالیاتی خطرہ کی اقسام
اختتامی خیالات
مالیاتی خطرے کی وضاحت
ہومآرٹیکلز
مالیاتی خطرے کی وضاحت

مالیاتی خطرے کی وضاحت

جدید
شائع کردہ Oct 28, 2019اپڈیٹ کردہ Feb 23, 2022
6m

مالیاتی خطرہ کیا ہے؟

مختصر الفاظ میں، مالیاتی خطرہ اپنی رقم یا قیمتی اثاثہ جات کھونے کے امکان کو کہتے ہیں۔ مالیاتی مارکیٹس کے تناظر میں، ہم خطرے کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں کہ یہ وہ رقم ہوتی ہے جس کا خسارہ ایک فرد ٹریڈ یا سرمایہ کاری کرتے ہوئے برداشت کر سکتا ہے۔ چنانچہ، خطرہ اصل خسارے کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ہے کہ جو آپ بتدریج کھو سکتے ہیں۔

بالفاظ دیگر، کئی مالیاتی سروسز یا ٹرانزیکشنز میں خطرے کا قدرتی امکان موجود ہوتا ہے، اور اسے ہم مالیاتی خطرہ کہتے ہیں۔ وسیع تناظر میں بات کی جائے، تو اس تصور کا طلاق مختلف صورتحال پر کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ مالیاتی مارکیٹس، کاروباری ایڈمنسٹریشن، اور حکومتی ادارے۔ 

مالیاتی خطروں کا جائزہ اور ان سے نمٹنے کے عمل کو اکثر خطرے کی نظم کاری کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن، اس سے قبل کہ ہم خطرے کی نظم کاری کی بات کریں، یہ ضروری ہے کہ ہمیں مالیاتی خطرے اور اس کی مختلف اقسام کا علم ہو۔

مالیاتی خطرے کی تقسیم کاری اور تعریف کے متعدد طریقے ہیں۔ اس کی چیدہ چیدہ مثالیں سرمایہ کاری کا خطرہ، عمل کاری کا خطرہ، مطابقت پذیری کا خطرہ، اور نظام سے وابستہ خطرہ ہیں۔


مالیاتی خطرہ کی اقسام

جیسا کہ ذکر کیا گیا، مالیاتی خطرے کی تقسیم کاری کے مختلف طریقے ہیں، اور ان کی تعریف بھی سیاق و سباق کے حوالے سے خاطر خواہ طور پر مختلف ہو سکتی ہے۔ یہ آرٹیکل سرمایہ کاری، عمل کاری، مطابقت پذیری اور نظام سے وابستہ خطرات کا ایک جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔


سرمایہ کاری کا خطرہ

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، سرمایہ کاری کے خطرات وہ ہیں جو کہ سرمایہ کاری اور ٹریڈنگ کی سرگرمیوں سے متعلقہ ہیں۔ سرمایہ کاری کے خطرات کی مختلف قسمیں ہیں، لیکن ان میں سے اکثر مارکیٹ کی متغیر قیمتوں سے متعلق ہیں۔ ہم مارکیٹ، لیکویڈیٹی، اور کریڈٹ کے خطرات کو سرمایہ کاری کے خطرے کے زمرے میں والے خطرات کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔


مارکیٹ کا خطرہ

مارکیٹ کا خطرہ کسی اثاثے کی متغیر قیمت سے وابستہ خطرہ ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایلس Bitcoin خریدتی ہے، تو وہ مارکیٹ کے خطرے سے دوچار ہوگی کیونکہ اتار چڑھاؤ قیمت میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ 

مارکیٹ کے خطرے کی نظم کاری اس بات پر غور کرنے سے شروع ہوتی ہے کہ اگر Bitcoin کی قیمت اس کی پوزیشنز کے خلاف چلتی ہے تو ایلس کو کتنا خسارہ ہو سکتا ہے۔ اگلا مرحلہ ایک لائحہ عمل طے کرنے کا ہے، جو اس بات کی وضاحت کرے گی کہ ایلس کو مارکیٹ کی نقل و حرکت پر کیا ردعمل دینا چاہیئے۔

عموماً، سرمایہ کاروں کو بلا واسطہ اور بالواسطہ دونوں طرح کی مارکیٹ کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ بلا واسطہ مارکیٹ کا خطرہ اس نقصان سے متعلق ہے جس کا سامنا ایک ٹریڈر کو کسی اثاثہ کی قیمت میں منفی تبدیلی کی صورت میں کرنا پڑ سکتا ہے۔ پچھلی مثال بلاواسطہ مارکیٹ کے خطرے کا خاکہ کھینچتی ہے (ایلس نے قیمت میں کمی سے پہلے Bitcoin خریدا)۔

دوسری طرف، بالواسطہ مارکیٹ کا خطرہ ایسے اثاثے سے متعلق ہے جس میں ثانوی یا ذیلی خطرے کا امکان ہوتا ہے (یعنی، کم واضح)۔ اسٹاک مارکیٹس میں، شرح سود کا خطرہ عموماً بلاواسطہ اسٹاکس کی قیمت پر اثر ڈالتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر باب کسی کمپنی کے شیئرز خریدتا ہے، تو اس کی ہولڈنگز بالواسطہ طور پر شرح سود میں تغیر سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی شرح سود کی وجہ سے کمپنی کو ترقی کرنے یا منافع بخش رہنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، زیادہ شرحیں دوسرے سرمایہ کاروں کو اپنے شیئرز بیچنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ وہ اکثر ایسا اپنے ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے رقم استعمال کرنے کے لیے کرتے ہیں کہ جنہیں برقرار رکھنا اب سودمند نہیں رہا۔

یہ امر قابل غور ہے کہ، اگرچہ، سود کی شرح مالیاتی مارکیٹس پر بلا واسطہ یا بالواسطہ دونوں طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔ جبکہ یہ شرحیں اسٹاکس کو بالواسطہ متاثر کرتی ہیں، وہ بانڈز اور دیگر متعین آمدنی والی ضمانتوں پر بلاواسطہ اثر ڈالتی ہیں۔ چنانچہ، اس بنیاد پر کہ اثاثہ کونسا ہے، شرح سود کے خطرے کو بلاواسطہ یا بالواسطہ خطرہ تصور کیا جا سکتا ہے۔


لیکویڈیٹی کا خطرہ

لیکویڈیٹی کا خطرہ سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کے لیے ان کی قیمت میں بے تحاشہ تبدیلی کے بغیر کسی خاص اثاثے کو خریدنے یا بیچنے سے قاصر ہونے کا خطرہ ہے۔

مثال کے طور پر، فرض کریں کہ ایلس نے کرپٹو کرنسی کے 1,000 یونٹس فی $10 میں خریدے۔ فرض کریں کہ قیمت کچھ مہینوں کے بعد مستحکم رہتی ہے، اور کرپٹو کرنسی اب بھی $10 کے آس پاس گردش کر رہی ہے۔

ایک اعلیٰ حجم کے، لیکویڈ مارکیٹ میں، ایلس اپنی $10,000 کی جمع پونجی تیزی سے بیچ سکتی ہے کیونکہ وہاں کافی خریدار ہیں جو ہر یونٹ کے لیے $10 ادا کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن اگر مارکیٹ لیکویڈ نہیں ہے، تو صرف چند ایک ایسے خریدار ہوں گے جو فی شیئر $10 ادا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ لہٰذا، ایلس کو شاید اپنے کوائنز کی اچھی خاصی مقدار بہت کم قیمت پر بیچنی پڑے گی۔


کریڈٹ کا خطرہ

کریڈٹ کا خطرہ اس بات کا خطرہ ہے کہ قرضہ دینے والا فریق مخالف کی قرضے کی وجہ سے رقم کھو بیٹھے۔ مثلاً، اگر باب ایلس سے رقم ادھار لیتا ہے، تو اسے کریڈٹ کے خطرے کا سامنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اس بات کا امکان ہے کہ باب ایلس کو ادائیگی نہیں کرے گا، اور اس امکان کو ہم کریڈٹ کا خطرہ کہتے ہیں۔ اگر باب مقروض ہو جاتا ہے، تو ایلس اپنی رقم کھو دے گی۔

وسیع تناظر میں، معیشت کا بحران تب واقع ہو سکتا ہے جب کہ کسی ملک کے کریڈٹ کا خطرہ نامعقول حد تک پھیل جائے۔ گزشتہ 90 سالوں کا بدترین مالیاتی بحران جزوی طور پر عالمی کریڈٹ کے خطرے میں پھیلاؤ کی وجہ سے پیش آیا۔

تب، امریکی بینکس میں ہزاروں مخالف فریقین سمیت تلافی کے ملینز ٹرانزیکشنز تھے۔ Lehman Brothers کے مقروض ہو جانے کی وجہ سے، کریڈٹ کا خطرہ پوری دنیا میں نہایت تیزی سے پھیلا، جس کی وجہ سے ایک ایسا مالیاتی بحران پیدا ہوا جو Great Recession کا سبب بنا۔


عمل کاری کا خطرہ

عمل کاری کا خطرہ اندرونی عمل کاریوں، سسٹمز، اور عوامل میں ناکامی کی وجہ پیش آنے والا خطرہ ہے۔ یہ ناکامیاں اکثر حادثاتی انسانی غلطیوں یا جان بوجھ کر کی گئی دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ 

عمل کاری کے خطرات کا سد باب کرنے کے لیے، ہر کمپنی کو مضبوط طریقہ کار اور موثر داخلی نظم کاری کا اپناؤ کرنے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً سکیورٹی آڈٹ کا انعقاد عمل میں لانا چاہیئے۔

ایسے بے شمار واقعات ہوئے ہیں کہ جن میں بد انتظامی کا فائدہ اٹھا کر ملازمین اپنی کمپنی کے فنڈز سے غیر مجاز ٹریڈ انجام دینے میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح کی سرگرمی کو عموماً بغاوت پر مبنی ٹریڈنگ کہا جاتا ہے، اور اس سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر مالی خسارہ جات ہوئے ـ خصوصاً بینکنگ کی انڈسٹری میں۔

عمل کاری کی ناکامیاں بیرونی واقعات کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں جو بالواسطہ طور پر کمپنی کے عمل کاریوں کو متاثر کرتی ہیں، جیسے کہ زلزلے، گرج چمک اور دیگر قدرتی آفات۔


مطابقت پذیری کا خطرہ

مطابقت پذیری کا خطرہ ان نقصانات سے متعلق ہے جو اس وقت پیدا ہوسکتے ہیں جب کوئی کمپنی یا ادارہ اپنے متعلقہ دائرہ اختیار کے قوانین اور ضوابط پر عمل کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے۔ اس طرح کے خطرات سے اجتناب برتنے کے لیے، کئی کمپنیز مخصوص عوامل طریقہ کار اپناتے ہیں، جیسے کہ اینٹی منی لانڈرنگ (AML) اور اپنے صارف کو جانیں (KYC)۔

اگر کوئی سروس فراہم کرنے والا یا کمپنی مطابقت پذیری میں ناکام ہو جاتا ہے، تو وہ بند ہو سکتے ہیں یا سنگین جرمانوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ کئی سرمایہ کاری کی فرمز اور بینکس کو مطابقت پذیری میں ناکام ہونے کی وجہ سے (مثلاً، بغیر درست لائسینس کے آپریٹ کرنا) قانونی چارہ جوئی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اندرونی ٹریڈنگ اور بدعنوانی بھی مطابقت پذیری کے خطرات کی چند عام مثالیں ہیں۔


نظام سے متعلق خطرہ

نظام سے متعلق خطرے کا تعلق کسی خاص مارکیٹ یا انڈسٹری میں منفی اثر کو ٹریگر کرنے کے امکان والے کسی خاص واقعے کے ساتھ ہے۔ مثال کے طور پر، 2008 میں Lehman Brothers کی تباہی نے امریکہ میں ایک سنگین مالیاتی بحران کو جنم دیا، جس نے بہت سے دوسرے ممالک کو بھی متاثر کیا۔

نظام سے متعلق خطرے کی وجہ ایک ہی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کمپنیز کا آپس میں ایک دوسرے سے باہمی مضبوط ربط ہے۔ اگر Lehman Brothers فرمز امریکہ کے پورے مالیاتی نظام کے ساتھ اس قدر گہرائی میں ملوث نہ ہتے، تو اس کے دیوالیہ پن کا اس قدر زیادہ اثر نہ پڑتا۔

نظام سے متعلق خطرے کا تصور یاد رکھنے کا ایک آسان طریقہ ڈومینو اثر کو فرض کرنا ہے، کہ جس میں ایک جزو گر جائے، تو اس کے نتیجے میں دیگر جزئیات بھی گر جاتی ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ، دھاتوں کی قیمتی انڈسٹری 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد خاطر خواہ طور پر توسیع کے تجربے سے گزری ہے۔ چنانچہ، تنوع نظام سے متعلق خطرے کا سد باب کرنے کا ایک طریقہ ہے۔


نظام سے متعلقہ خطرہ بمقابلہ منظم خطرہ

نظام سے متعلقہ خطرے کو منظم یا مجموعی خطرے کے معنوں میں نہیں لینا چاہیئے۔ مؤخر الذکر کی تعریف مشکل ہے اور یہ خطرات کے ایک وسیع سلسلے کا حوالہ دیتی ہے - جو کہ صرف مالی نہیں ہیں۔ 

منظم خطرات کا تعلق متعدد معاشی اور سماجی سیاسی عوامل سے ہو سکتا ہے، جیسے افراط زر، شرح سود، جنگیں، قدرتی آفات، اور حکومتی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں۔

بنیادی طور پر، منظم خطرے کا تعلق ایسے واقعات سے ہوتا ہے جو ایک ملک یا معاشرے کو متعدد شعبوں میں متاثر کرتے ہیں۔ اس میں زرعی، تعمیری، مائننگ، مینوفیکچرنگ، مالیاتی اور دیگر انڈسٹریز شامل ہو سکتی ہیں۔ لہٰذٰا یہ کہ اگرچہ نظام سے متعلقہ خطرے اک سد باب آپس میں کم تعلق رکھنے والے اثاثہ جات سے کیا جا سکتا ہے، منظم خطرے کا سد باب پورٹ فولیو کے تنوع سے نہیں کیا جا سکتا۔


اختتامی خیالات

یہاں پر ہم نے مالیاتی خطرے کی کئی اقسام میں سے چند ایک کا ذکر کیا، بشمول سرمایہ کاری، عمل کاری، مطابقت پذیری، اور نظام سے متعلق خطرات کے۔ سرمایہ کاری کے خطرے کے زمرے میں، ہم نے مارکیٹ کے خطرے، لیکویڈیٹی کے خطرے اور کریڈٹ کے خطرے کا تصور پیش کیا۔

جب بات مالیاتی مارکیٹس کی ہو، تو خطرات سے مکمل طور پر بچنا ورچوئیلی ناممکن ہے۔ ایک ٹریڈر یا سرمایہ کار جو سب سے بہتر کام کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی طرح ان خطرات کا سدباب کرنا یا ان پر قابو پانا ہے۔ لہٰذا، مالیاتی خطرات کی کچھ اہم اقسام کو سمجھنا ایک مؤثر خطرے کی نظم کاری کی حکمت عملی کی تشکیل کی طرف پہلا قدم ہے۔