سکیورٹی کے عمومی اصول
سکیورٹی کے عمومی اصول
ہوم
آرٹیکلز
سکیورٹی کے عمومی اصول

سکیورٹی کے عمومی اصول

نو آموز
شائع کردہ Nov 28, 2018اپڈیٹ کردہ Oct 4, 2022
4m

یہ آرٹیکل Trezor.io کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے


کرپٹو کرنسیز نے بہت سارے دلچسپ مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ناتجربہ کار افراد کے لیے یہ خطروں اور مشکلات سے خالی نہیں۔ کرپٹو کرنسیز کو ہولڈ، استعمال، اور ٹریڈ کرنے سے متعلق کچھ خطرات کو کم کرنے کے لیے ذیل میں بیان کردہ سکیورٹی کے تین اہم اصولوں پر عمل کریں۔


اپنی رازداری کو برقرار رکھیں

انٹرنیٹ کی نوعیت کے باعث، معلومات نہایت تیزی سے، اور بعض اوقات، ان چاہی سمتوں میں پھیل سکتی ہیں۔

ایسے لوگ کثیر تعداد میں موجود ہیں جو برے مقاصد کے ساتھ آپ کی کرپٹو کرنسیز کو چرانے کے لیے مذموم حربے استعمال کر رہے ہیں۔ عموماً اکثر خطرے اور حملے ایک بڑے پیمانے پر کسی مخصوص ہدف کے تحت انجام دیے جاتے ہیں اور ایک جال کی حیثیت سے کام کرتے ہیں—جو کہ سادہ لوح اور الجھن کے شکار افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم، کوئی خاص فرد ان کا ہدف نہیں ہوتا۔ تاہم، اگر آپ غیر اداری طور پر اپنی حساس معلومات افشاء کرتے ہوئے از خود ان کا ہدف بن جاتے ہیں، تو مزید پیچیدہ اور سنگین حملوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔

درج ذیل کی تجویز دی جاتی ہے:

  • کامیاب ٹریڈنگ سے ہونے والے منافعوں کی تشہیر کے خطرات پر غور کریں

  • اپنے گزشتہ طور پر استعمال شدہ ایڈریسز کو شیئر نہ کریں

  • اپنے بیلنسز کا تذکرہ کرتے ہوئے محتاط رہیں

  • ایسی معلومات کو شیئر کرنے سے اجتناب برتیں جو آپ کی آف لائن شناخت سے وابستہ ہو

  • ابلاغ کے مرموز کردہ چینلز استعمال کریں

دور اندیش سوچ رکھیں۔ آپ کے ایڈریس میں موجود ان چند satoshis کی مالیت، آنے والے سالوں میں خاطر خواہ حد تک بڑھ سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو۔ اس دوران آپ اپنی کرپٹو کرنسیز سے بھی چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن کیا یہ بات معنی رکھتی ہے؟ ممکن ہے کہ ممکنہ حملہ آور، دور پار کے رشتہ دار، یا محض حاس اجنبی یا آشنا افراد کو وقت پر memo نہ ملے۔


خود کو محفوظ رکھیں

روایتی بینکنگ سسٹمز اور کرپٹو کرنسیز کے صارفین اکثر اسی قسم کے اسکیمز اور دھوکوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ تاہم، کرپٹو کرنسیز کے معاملے میں، اکثر عوامل ذمہ داری کا بوجھ اصل صارف کے کندھوں پر ڈال دیتے ہیں—بنیادی طور پر اعتماد میں فطری کمی اور عمل درآمد شدہ ٹرانزیکشنز کا عدم تغیر۔

بینکس کو آپ کی رقم پر مکمل تحویلی اختیار حاصل ہوتا ہے، جن کو قابل اعتماد ادارے تصور کیا جاتا ہے۔ بینکس باضابطہ ہوتے ہیں، اور وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں جس کے باعث دھوکہ دہی سے بچنے اور اس کا مقابلہ کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ اگر آپ دھوکہ دہی کا شکار بن جاتے ہیں یا اپنے بینک اکاؤنٹ سے رقم منتقل کرتے وقت آپ سے غیر دانستہ طور پر غلطی ہو جاتی ہے، تو عام طور پر چارج بیک کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ کرپٹو کرنسیز میں، نیٹ ورک پر پہنچ جانے اور تصدیق ہو جانے کے بعد، ٹرانزیکشنز ناقابل واپسی ہو جاتی ہیں۔
ہوشیار رہیں۔ فشنگ کے عام حربوں کے بارے میں جانیں، یہ معلوم کریں کہ کیی لاگرز کیا ہوتے ہیں، اور Binance اکاڈیمی میں بیان کردہ عمومی خطروں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ ان خطرات سے آگاہ رہنا آپ کو اپنے کوائنز کی حفاظت کرنے میں مدد دے گا۔

اپنے آن لائن اکاؤنٹس کے لیے مضبوط اور منفرد پاس ورڈز کا استعمال اور 2FA تحفظ کو فعال کرنا، اپنی عمومی سکیورٹی کو بہتر بنانے کی جانب آپ کا پہلا قدم ہو گا۔
آپ کو اپنی ذات سے بھی محفوظ رہنا نہیں بھولنا چاہیئے کیوںکہ آپ بھی (شاید) انسان ہیں اور لوگ غلطیاں کر بیٹھتے ہیں۔ اپنے بیک اپس تخلیق کرتے ہوئے ٹائپو جیسی غلطی کرنا، اپنے ٹوکنز کسی غلط ایڈریس پر بھیج دینا یا صرف ایک غلط فیصلہ کرنا آپ کی سکیورٹی کو خطرے سے دوچار کر سکتا ہے اور بہت سے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

ہم میں سے اکثر افراد نے اپنے والدین سے 'کاٹنے سے پہلے، دو بار پیمائش کریں' محاورہ سن رکھا ہو گا۔ جب کرپٹو کرنسیز کے استعمال اور تحفظ کی بات آتی ہے، تو یہ محاورہ صادق آتا ہے۔


اپنا بینک خود بنیں

اپنے کوائنز کی دستیابی کو یقینی بنانے اور اپنی سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے، یہ تجویز دی جاتی ہے کہ اپنی نجی کلیدوں کو آف لائن رکھیں۔ اگرچہ یہ ایکسچینجز پہلے سے کئی گنا محفوظ ہو چکے ہیں، تاہم پھر بھی یہ تجویز دی جاتی ہے کہ ایکسچینج اکاؤنٹس میں زیادہ رقم صرف اس وقت رکھیں جب آپ ایک فعال ٹریڈر ہوں۔ اس کے علاوہ، بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کی طرح، جب تک آپ اپنی نجی کلیدوں کے مالک نہ بن جائیں اور ان تک خصوصی رسائی حاصل نہ کر لیں، آپ اپنے کوائنز کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتے، اور آپ کو محض ایک وعدے پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔

تاریخ میں پہلی بار، آپ کو بالکل اسی طرح ڈیجیٹل اثاثے کا مالک بننے کا موقع ملا ہے جیسے آپ فزیکل کیش یا کسی قیمتی دھات کے ٹکڑے کی ملکیت رکھتے ہیں۔ اثاثوں کی ان دیگر اقسام کے برعکس، آپ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر اپنی کرپٹو کرنسیز کا بیک اپ کر سکتے ہیں اور دنیا میں کہیں سے بھی اپنی ملکیت تک بحفاظت رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ظاہر ہے، کہ اپنی کرپٹو کرنسیز میں ان کلیدوں کو ہولڈ اور محفوظ کرنا کئی خطرات کا سبب بن سکتا ہے، جیسا کہ پِچھلے سیکشن میں نشاندہی کی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے، آپ کو ان چیلینجز سے نمٹنے میں مدد دینے اور ان نئی ٹیکنالوجیز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے کے لیے درکار ٹولز تیار ہیں۔

آپ کی نجی کلیدوں کو ہولڈ کرنے کے لیے ڈیزائن کردہ کرپٹو کرنسی والیٹس کی اقسام اپنی سکیورٹی، استعمال میں آسانی، استعمال کی صورتوں کی تعداد، اور یہاں تک کہ دستیابی کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ اپنے آپشنز پر غور کریں اور اپنی ضروریات پر پورا اترنے والی قسم کا انتخاب کریں۔

سافٹ ویئر اور موبائل فون والیٹس وسیع تعداد میں فیچرز کی پیشکش کرتے ہیں اور عموماً استعمال میں بہت آسان ہوتے ہیں۔ سکیورٹی کے حوالے سے سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ نہایت پیچیدہ اور اکثر آن لائن ماحول سے مربوط ہوتے ہیں جیسا کہ آپ کا موبائل فون یا کمپیوٹر۔ یہ عناصر وائرسز اور ہیکرز کے لیے آپ کے کوائنز تک رسائی حاصل کرنے کے بہت سے مواقع پیدا کرتے ہیں؛ لہٰذا، ناتجربہ کار صارفین کو انہیں صرف کرپٹو کرنسیز کی معمولی رقوم کے لیے ہی استعمال کرنا چاہیئے۔

کاغذی والیٹس کو اکثر اوقات نجی کلیدوں کو اسٹور کرنے کے محفوظ ترین طریقوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے، جو کاغذ کے صفحے پر تحریر کردہ (یا دھاتی پلیٹ پر نقش بند) آپ کی نجی کلیدوں کو ہولڈ کرتے ہیں۔ تاہم، ان کی نظم کاری کافی مشکل ہوتی ہے اور عموماً ایک ہی مرتبہ استعمال کے لیے موزوں ہوتی ہے۔
روایتی طور پر ہارڈ ویئر والیٹس استعمال میں آسانی اور سکیورٹی کے اعلیٰ درجے کو متوازن رکھنے کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ جیب کے سائز کی یہ ڈیوائسز نجی کلیدوں کو آف لائن رکھتے ہوئے انہیں مالویئر اور ہیکرز سے محفوظ رکھتی ہیں، لیکن ان پر $70 سے $200 تک کی لاگت آتی ہے، اور یہ زیادہ تر کارروائیوں کے لیے فزیکل تصدیق کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یاد رکھیں، سکیورٹی کبھی بھی حتمی اور مکمل نہیں ہوتی۔ وقتاً فوقتاً اپنی بنیادی معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے وقت نکالیں اور باقاعدگی کے ساتھ اپنے ممکنہ کمزور پہلوؤں پر غور کریں۔