ہارڈ ویئر والیٹ کیا ہے (اور آپ کو اس کا استعمال کیوں کرنا چاہیئے)
امواد کا جدول
تعارف
نجی کلید کیا ہے؟
ہارڈ ویئر والیٹ کیا ہے؟
آپ کو ہارڈ ویئر والیٹ کیوں استعمال کرنا چاہیئے؟
ہارڈ ویئر والیٹس کی کمزوریاں
اختتامی خیالات
ہارڈ ویئر والیٹ کیا ہے (اور آپ کو اس کا استعمال کیوں کرنا چاہیئے)
ہومآرٹیکلز
ہارڈ ویئر والیٹ کیا ہے (اور آپ کو اس کا استعمال کیوں کرنا چاہیئے)

ہارڈ ویئر والیٹ کیا ہے (اور آپ کو اس کا استعمال کیوں کرنا چاہیئے)

نو آموز
شائع کردہ Mar 4, 2020اپڈیٹ کردہ May 23, 2022
6m

تعارف

کرپٹو کرنسی کے ضمن میں، بہتر اسٹوریج کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ کرپٹو ایک پرخطر دنیا ہے – جہاں ہر طرح مشکوک عناصر موجود ہیں، اور ان کے پاس صارفین کے فنڈز چرانے کے لیے کثیر حکمت عملیاں موجود ہیں۔ اپنے کوائنز کی حفاظت کے لیے ایک حکمت عملی وضع کرنا آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ 
آپ کے سامنے اسٹوریج کے کئی سارے آپشنز موجود ہیں، جن میں سے ہر ایک کے سکیورٹی اور استعمال کے حوالے سے اپنے فوائد و نقصانات ہیں۔ اغلب امکان یہ ہے کہ، نوآموز ایکسچینجز کا ہی استعمال کریں گے۔ یہ پلیٹ فارمز بہت سے لوگوں کو کرپٹو کرنسی سے پہلی مرتبہ روشناس کراتے ہیں اور صارفین کو اپنے فنڈز ایک آن لائن والیٹ میں رکھنے کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ لیکن صارف تکنیکی طور پر اپنے کوائنز پر تصرف نہیں رکھتا۔ اگر ایکسچینج ہیک ہو جاتا ہے یا آف لائن کر لیاجاتا ہے، تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے فنڈز واپس حاصل نہ کر سکیں۔

ہو سکتا ہے کہ صارفین کو اپنی کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے ہٹانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ ممکن ہے کہ ان میں ایسا کرنے کے لیے درکار مہارتیں موجود نہ ہوں، یا یہ بھی ممکن ہو کہ وہ تحویلی حل کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہوں۔ انجام کار، اپنی تحویل میں رکھنے کے نتیجے میں صارف کی غلطی کی وجہ سے فنڈز میں خسارہ ہو سکتا ہے۔

اپنی کرپٹو کرنسی کو اپنے تصرف میں رکھنے کا خیال پیچیدہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن سکیورٹی کے تناظر سے، ہارڈ ویئر والیٹس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس مضمون میں، ہم یہ وضاحت کریں گے کہ وہ کیا ہیں، کیسے کام کرتے ہیں، اور آپ کو ان کا استعمال کیوں کرنا چاہیئے۔


نجی کلید کیا ہے؟

آپ کی نجی کلید کرپٹو کرنسی ایکو سسٹم کے نیٹ ورک پر آپ کا پاسپورٹ ہے۔ کئی پہلوؤں سے، یہ بالکل حقیقی زندگی کی کلید کی طرح ہے – اس معلومات کے ذریعے آپ خرچ کرنے کے لیے اپنے فنڈز ان لاک کر سکتے ہیں۔ اگر کسی اور کو اس تک رسائی مل جائے، تو وہ آپ کی کرپٹو کرنسی چرا سکتا ہے۔ اگر آپ یہ کلید کھو دیں، تو آپ اپنے کوائنز تک رسائی کھو دیں گے– پاس ورڈ بھولنے کا کوئی بھی بٹن ایک غیر مرکزی ماحول میں موجود نہیں ہوتا۔ نہ ہی کوئی ایسا بینک موجود ہے جہاں آپ دھوکہ دہی پر مبنی ٹرانزیکشنز کی تنسیخ کے لیے کال کر سکتے ہیں۔

ان ساری باتوں کا نچوڑ یہ ہے کہ نجی کلیدوں لو لازمی طور پر خفیہ اور محفوظ رکھنا چاہیئے۔ یہ کرپٹو کرنسی صارفین کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے، کہ ہیکرز اور دھوکہ دہی کرنے والے انہیں چرانے – صارفین سے ان کے کوائنز ہتھیانے کے لیے فشنگ کی تکنیکات یا مال ویئر کے استعمال کے ذریعے- کی مستقل کوشش کرتے ہیں۔

اپنے کلیدوں کی دیکھ بھال کرنا آسان ہے – یہ صرف اعداد اور حروف کا ایک سلسلہ ہیں۔ انہیں کسی کاغذ پر لکھا جا سکتا ہے اور کسی تجوری میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فنڈز منتقل کرنے کے لیے کلیدیں استعمال کرتے وقت، ان کا ایسی ڈیوائس پر ہونا ضروری ہے جو یہ ثبوت تخلیق کریں کہ آپ اپنے کوائنز خرچ کر سکتے ہیں۔


ہارڈ ویئر والیٹ کیا ہے؟

ہارڈ ویئر والیٹس ایسی ڈیوائسز ہیں جو کہ خاص طور پر نجی کلیدوں کو بحفاظت رکھنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ یہ بنیادی طور پر اس لیے ڈیسک ٹاپ یا اسمارٹ فون والیٹس سے زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں، کیوںکہ وہ کسی بھی وقت انٹرنیٹ سے مربوط نہیں ہوتے۔ یہ خصوصیات مشکوک گروہوں کو دستیاب حملہ کرنے کے قابل پہلوؤں کو خاطر خواہ طور پر کم کر دیتی ہیں، کیوںکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسائی حاصل کیے بغیر ڈیوائس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتے۔

ایک اچھا ہارڈویئر والیٹ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ نجی کلیدیں کبھی بھی ڈیوائس سے باہر نہ نکلیں۔ یہ عام طور پر ڈیوائس میں کسی خاص جگہ رکھی جاتی ہیں جہاں سے انہیں ہٹانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

چونکہ ہارڈویئر والیٹس ہر وقت آف لائن ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ کسی دوسری مشین کا استعمال کرنا لازمی ہے۔ جس طرز پر وہ بنائے گئے ہیں اس وجہ سے، انہیں نجی کلید کے افشا ہونے کے خطرے کے بغیر متاثرہ PCs یا اسمارٹ فون کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔ یہاں سے وہ اس سافٹ ویئر کے ساتھ ربط میں آتے ہیں جو کہ صارف کو اپنا بیلنس دیکھنے یا ٹرانزیکشن کرنے کے قابل بناتا ہے۔

جب صارف ٹرانزیکشن تخلیق کر لیتا ہے، تو وہ اسے ہارڈ ویئر والیٹ میں بھیج دیتا ہے (ذیلی خاکے میں 1)۔ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ ٹرانزیکشن ابھی بھی مکمل نہیں ہوئی ہوتی: اسے پر ڈیوائس میں موجود نجی کلید سے دستخط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہارڈ ویئر ڈیوائس پر پوچھا جائے تو صارفین رقم اور ایڈریس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس موقع پر، اس پر دستخط کیا جاتا ہے اور اسے واپس سافٹ ویئر پر بھیجا جاتا ہے (2) جو اسے کرپٹو کرنسی کے نیٹ ورک پر براڈ کاسٹ کرتا ہے (3).


آپ کو ہارڈ ویئر والیٹ کیوں استعمال کرنا چاہیئے؟

وہ والیٹ جو انٹرنیٹ سے مربوط کمپیوٹرز یا اسمارٹ فونز پر نجی کلیدوں کو رکھتے ہیں وہ صارفین کے فنڈز کو وسیع پیمانے پر حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ مال ویئر ان ڈیوائسز پر کرپٹو سے متعلقہ سرگرمی کی تشخیص کر سکتا ہے اور صارفین کے فنڈز کو خالی کر سکتا ہے۔

ہارڈ ویئر والیٹ ایک چھوٹے سلاٹ والے نا قابل تسخیر والٹ کی طرح ہے۔ جب صارف نیٹ ورک کے لیے قابل قبول ٹرانزیکشن تخلیق کرنا چاہے، تو وہ اسے سلاٹ کے ذریعے آگے بڑھاتا ہے۔ فرض کریں، کہ سلاٹ کی دوسری جانب، کوئی جن ہے جو ٹرانزیکشن پر دستخط کرنے کے لیے کرپٹو گرافک جادو کرتا ہے۔ جن کبھی بھی والٹ سے باہر نہیں نکلتا – اس میں کوئی دروازہ نہیں ہے، اور سلاٹ کے ذریعے وہ باہر نہیں نکل سکتا۔ یہ صرف اتنا کر سکتا ہے کہ ٹرانزیکشنز وصول کرے، اور انہیں واپس لوٹا دے۔

حتیٰ کہ اگر کوئی آپ کے ہارڈ ویئر والٹ حاصل بھی کر لیتا ہے، تو آپ کے پاس PIN کوڈ کی صورت مین اضافی حفاظت موجود ہو گی۔ متعدد مرتبہ غلط ترتیب کا اندراج اکثر ڈیوائسز کے ری سیٹ ہونے کا سبب بنتا ہے۔

وہ فنڈز جو فعال طور پر استعمال نہیں ہو رہے – وہ جو خرچ نہیں ہو رہے، اسٹیک نہیں کیے جا رہے، ادھار نہیں دیے جا رہے، یا ٹریڈ نہیں کیے جا رہے – انہیں کولڈ اسٹوریج میں رکھنا چاہیئے۔ ہارڈ ویئر والیٹ صارفین کو، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جن کے پاس تکنیکی علم محدود ہوتا ہے، آسانی سے اس مقصد کے حصول کے ذرائع فراہم کرتا ہے۔ 
گم ہو جانے، چوری ہونے، یا نقصان اٹھانے کی صورتوں سے نمٹنے کے لیے ہارڈ ویئر والیٹس کو بیک اپ کرنا لازمی ہے۔ ابتدا کرتے وقت، عموماً صارفین کو اپنا سیڈ فریس – الفاظ کی ایک فہرست جو کہ نئی ڈیوائس پر فنڈز کو بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے - ریکارڈ کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ یہ کسی کو بھی اپنے کوائنز خرچ کرنے اجازت دیتا ہے، چنانچہ اسے حتی الوسع طور پر ضروری سمجھا جانا چاہیئے۔ یہ تجویز کردہ ہے کہ صارفین اسے کاغذ پر لکھ لیں (یا کسی دھات پر کندہ کروا دیں) اور اسے کسی نجی اور محفوظ جگہ پر رکھیں۔


ہارڈ ویئر والیٹس کی کمزوریاں

اسٹوریج کی کسی بھی دوسری قسم کی طرح، ہارڈ ویئر والیٹس کے بھی اپنے فواد اور نقصانات ہیں۔ اگرچہ وہ کوائنز ہولڈ کرنے والے سب سے محفوظ میڈیمز میں سے ایک ہیں، لیکن پھر بھی ان کی کچھ کمزوریاں ہیں۔ سکیورٹی اور استعمال میں آسانی کے مابین توازن کی بات ہو تو یہ دونوں پر پورا نہیں اترتے۔ اسمارٹ فونز/سافٹ ویئر والیٹس آسان ہیں، جبکہ ہارڈ ویئر والیٹس استعمال کے لیے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں ( اس صورت میں کہ فنڈز بھیجنے کے لیے دو ڈیوائسز کا استعمال لازمی ہو)۔

پھر بھی، ہارڈویئر والیٹس مکمل طور پر خطرے سے پاک نہیں ہیں۔ کسی صارف کو جسمانی خطرہ درپیش ہو تو وہ حملہ کرنے والے کے لیے والیٹ ان لاک کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، لیکن اس طرح کے دوسرے امکانات بھی ہیں۔ تجربہ کار مشکوک فریقین کو ڈیوائس تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے تو وہ اس کا غلط استعمال کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ 

تاہم، حقیقی دنیا کے لحاظ سے دیکھا جائے، تو آج تک کوئی ہارڈ ویئر ڈیوائس سے کامیابی سے نجی کلیدوں کو بازیافت کرنے والا کوئی ہیک نہیں کر پایا۔ جب کمزوریاں رپورٹ ہوتی ہیں، تو بنانے والے فوری طور پر ان کا ازالہ کر لیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ ناممکن ہے – محققین نے سب سے مشہور ترین والیٹس کے خلاف بھی حملوں کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

سپلائی چین کے حملے بھی ہارڈ ویئر والیٹ ڈیوائس کی سکیورٹی کو کمزور کرنے کے سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب غلط عناصر صارف تک پہنچے سے پہلے ہی والیٹ حاصل کر لیں۔ اس کے بعد، وہ سکیورٹی کو کمزور کرنے اور صارف کی جانب سے کوائنز ڈپازٹ کرنے کے بعد فنڈز چرانے کے لیے اس میں ردوبدل کر سکتے ہیں۔

ایک اور کمزوری یہ ہے کہ ہارڈویئر والیٹس کے استعمال میں والیٹ کو خود اپنی ذاتی تحویل میں لینا شامل ہے۔ بہت سارے لوگ اسے ایک فائدہ سمجھتے ہیں کیونکہ کوئی فریق ثالث آپ کے فنڈز کی نظم کاری کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر کچھ غلط ہو جائے، تو مدد کے لیے کوئی آسرا نہ ہو گا۔


اختتامی خیالات

ہارڈویئر والیٹس کی کمزوریاں ان کے فوائد پر حاوی نہیں ہوتے۔ جہاں تک پات اسٹوریج کے حل کی ہے، تو دیگر طریقوں کے لیے ہارڈ ویئر والیٹس کی سکیورٹی کی نظیر پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ کولڈ اسٹوریج کا کوئی متبادل نہیں ہے، جو کہ فنڈز کو ذاتی تحویل میں لینے کے بہت سارے خطرات کو خارج از امکان بنا دیتا ہے۔

ہارڈ ویئر والیٹ ڈھونڈتے وقت، صارفین کو دستیاب آپشنز کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہی حاصل کر لینی چاہیئے۔ مارکیٹ میں بہت سارے ڈیوائسز ہیں، جن میں سے ہر ایک کے اپنے فیچرز، معاونت یافتہ کرپٹو کرنسیز، اور سیکھنے کے طریقے ہیں۔