Binance Futures پر ٹریڈنگ کا تفصیلی ہدایت نامہ
امواد کی فہرست
Binance Futures اکاؤنٹ کیسے کھولا جائے
Binance Futures اکاؤنٹ فنڈ کیسے کیا جائے
Binance Futures انٹرفیس کا ہدایت نامہ
اپنی لیوریج کیسے ایڈجسٹ کی جائے
نقطہء قیمت اور آخری قیمت کے درمیان فرق کیا ہے؟
آرڈر کی کتنی اقسام دستیاب ہیں اور ان کا استعمال کب کیا جائے؟
Binance Futures کیلکولیٹر کیسے استعمال کریں
ہیج موڈ کیسے استعمال کیا جائے
فنڈنگ ریٹ کیا ہوتا ہے اور اس کو کیسے چیک کیا جائے؟
صرف پوسٹ کریں، قابل نفاذ وقت، اور صرف کم کریں سے کیا مراد ہے؟
لیکویڈیٹ ہونے کے خطرے کے حوالے سے آپ کی کیا پوزیشن ہے؟
خودکار ڈی لیوریجنگ کیا ہوتی ہے، اور یہ کیسے آپ پر اثرانداز ہوتی ہے؟
اختتامی خیالات
Binance Futures پر ٹریڈنگ کا تفصیلی ہدایت نامہ
ہومآرٹیکلز
Binance Futures پر ٹریڈنگ کا تفصیلی ہدایت نامہ

Binance Futures پر ٹریڈنگ کا تفصیلی ہدایت نامہ

نو آموز
Published Nov 5, 2019Updated Mar 16, 2022
14m

مشمولات


Binance Futures اکاؤنٹ کیسے کھولا جائے

Binance Futures اکاؤنٹ کھولنے سے پہلے، آپ کو ایک عام Binance اکاؤنٹ درکار ہوگا۔ اگر آپ کے پاس یہ موجود نہیں، تو آپ Binance پر جا سکتے ہیں اور اپنی اسکرین کے بالائی دائیں کنارے پر موجود رجسٹر کریں کلک کر سکتے ہیں۔ پھر ان اقدامات پر عمل کریں:
  1. اپنے ای میل ایڈریس کو درج کریں اور ایک محفوظ پاس ورڈ تخلیق کریں۔ اگر آپ کے پاس ریفرل ID موجود ہے، تو ان کو ریفرل ID باکس میں پیسٹ کریں۔ اگر آپ کے پاس یہ موجود نہیں، تو آپ ہمارے ریفرل لنک کو استعمال کر کے اسپاٹ/مارجن ٹریڈنگ فیس پر 10% چھوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
  2. جب آپ تیار ہوں، تو اکاؤنٹ کو تخلیق کریں پر کلک کریں۔
  3. آپ کو جلد ہی ایک توثیقی ای میل موصول ہو گی۔ اپنی رجسٹریشن کو مکمل کرنے کے لیے ای میل میں دی ہدایات پر عمل کریں۔
پھر، اپنے Binance اکاؤنٹ پہ لاگ ان کریں، اپنا ماؤس صفحے کے اوپر بنے بار پر لے جائیں، اور USD(S)-M Futures پر کلک کریں۔


اپنے Binance Futures اکاؤنٹ کو فعال کرنے کے لیے ابھی کھولیں کے بٹن پر کلک کریں۔ اور ہو گیا۔ آپ ٹریڈ کرنے کے لیے تیار ہیں!

اگر آپ Futures معاہدات کو ٹریڈ کرنے سے واقف نہیں، تو ہم تجویز دیتے ہیں کہ آغاز سے قبل آپ Forward اور Futures معاہدات کیا ہوتے ہیں؟، اور دائمی فیوچرز معاہدات کیا ہوتے ہیں؟ نامی آرٹیکلز کو پڑھیں۔
آپ معاہدے کی خصوصیات کا مجموعی جائزہ لینے کے لیے Binance Futures کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات سے رجوع بھی کر سکتے ہیں۔ 
اگر آپ اصل فنڈز خطرے میں ڈالے بغیر یہ پلیٹ فارم آزمانا چاہتے ہیں، تو آپ Binance Futures ٹیسٹ نیٹ کو آزما کر دیکھ سکتے ہیں۔ 


Binance Futures اکاؤنٹ فنڈ کیسے کیا جائے

آپ اپنے ایکسچینج والیٹ (وہ والیٹ جو آپ Binance پر استعمال کرتے ہیں) اور اپنے Futures والیٹ (وہ والیٹ جو آپ Binance Futures پر استعمال کرتے ہیں) کے درمیان فنڈز کو ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔
اگر Binance پر آپ نے کوئی فنڈز ڈپازٹ نہیں کروائے ہوئے، تو ہم آپ کو Binance پہ ڈپازٹ کیسے کروایا جائے پڑھنے کی تجویز دیتے ہیں۔

فنڈز اپنے Futures والیٹ پر ٹرانسفر کرنے کے لیے، Binance Futures کے صفحے کے دائیں جانب موجود ٹرانسفر کریں کے انتخاب پہ کلک کریں۔


وہ رقم سیٹ کریں جسے آپ ٹرانسفر کرنا چاہتے ہیں اور ٹرانسفر کی تصدیق کریں پر کلک کریں۔ آپ جلد ہی اپنے Futures والیٹ پر شامل کردہ بیلنس کو دیکھ پائیں گے۔ آپ مندرجہ ذیل کے مطابق دو تیر کے نشانات استعمال کرتے ہوئے ٹرانسفر کی سمت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

اپنے Futures والیٹ فنڈ کرنے کا یہی ایک طریقہ نہیں۔ آپ اپنے ایکسچینج والیٹ میں موجود فنڈز بھی بطور ضمانت استعمال کر سکتے ہیں اور اپنے Futures والیٹ بیلنسز کے صفحے سے Futures ٹریڈنگ کے لیے USDT کو ادھار لے سکتے ہیں۔ اس طرح، آپ کو اپنے Futures والیٹ پر براہ راست فنڈز کو ٹرانسفر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ظاہر ہے، کہ آپ کو ادھار لیا ہوا USDT واپس کرنا ہو گا۔


Binance Futures انٹرفیس کا ہدایت نامہ


1. اس جگہ، آپ Binance کے دیگر صفحات کے لنکس کو حاصل کر سکتے ہیں، جیسے کہ کوائن-M Futures (سہ ماہی معاہدات)، API تک رسائی، اسپاٹ، اور سرگرمیاں۔ [Information] ٹیب کے تحت آپ Futures کے متعلق اکثر پوچھے گئے سوالات، فنڈنگ ریٹ، انڈیکس پرائس، اور دیگر مارکیٹ ڈیٹا کے لنکس کو حاصل کر سکتے ہیں۔

بالائی بار پر دائیں جانب جا کر آپ اپنے ڈیش بورڈ سمیت Binance کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ پورے Binance ایکو سسٹم میں موجود اپنے والیٹ بیلنسز اور آرڈرز کو بآسانی چیک کر سکتے ہیں۔


2۔ یہاں سے آپ مندرجہ ذیل کو انجام دے سکتے ہیں:
  • موجودہ معاہدے (بطور ڈیفالٹ BTCUSDT) کے نام پر ہوور کر کے معاہدہ کو منتخب کر سکتے ہیں۔
  • نقطہء قیمت کو چیک کریں (ان پر نظر رکھی جانی چاہیئے، چونکہ تصفیے نقطہء قیمت کی بنیاد پر واقع ہوتے ہیں)۔
  • فنڈنگ کے اگلے مرحلے تک متوقع فنڈنگ ریٹ اور اس کے کاؤنٹ ڈاؤن کو چیک کریں۔
  • اپنے موجودہ چارٹ کو ملاحظہ کریں۔ آپ اصل یا اںضمام شدہ ٹریڈنگ ویو چارٹ کے درمیان سوئچ کر سکتے ہیں۔ آپ [Depth] پر کلک کر کے موجودہ آرڈر بُک کا براہ راست ڈسپلے حاصل کر سکتے ہیں۔
  • آرڈر بک کے براہ راست ڈیٹا کو ملاحظہ کریں۔ آپ اس جگہ کے بالائی دائیں کونے (بطور ڈیفالٹ 0.01) پر ڈراپ ڈاؤن مینو میں آرڈر بک کی درستگی کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
  • پلیٹ فارم پہ ہونے والی گزشتہ ٹریڈز کی براہ راست فیڈ کو ملاحظہ کریں۔

جب بھی آپ ماڈیول کے نچلے دائیں کونے پر ایک تیر کا نشان دیکھیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس چیز کو حرکت دے سکتے ہیں اور اسے ری سائز کر سکتے ہیں۔ اس طرح سے، آپ با آسانی اپنی مرضی کے مطابق انٹرفیس کے خاکہ کو تیار کر سکتے ہیں!


یہاں سے آپ اپنی ٹریڈنگ سرگرمی کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی پوزیشنز کا موجودہ اسٹیٹس اور اپنے موجودہ جاری اور پہلے انجام دیے گئے آرڈر کو چیک کرنے کے لیے ٹیبز کے درمیان سوئچ کر سکتے ہیں۔ آپ مذکورہ مدت کے لیے ٹریڈنگ اور ٹرانزیکشن کی مکمل ہسٹری کو حاصل کر سکتے ہیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں پر آپ ADL کے تحت آٹو-ڈی لیوریج کیو میں اپنی پوزیشنز کی نگرانی کر سکتے ہیں (جس پر زائد اتار چڑھاؤ کے دوران توجہ دینا ضروری ہے)۔


4. یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ اپنے دستیاب اثاثہ جات کو چیک کر سکتے ہیں، مزید کرپٹو کو ڈپازٹ کر سکتے ہیں، اور خرید سکتے ہیں۔ آپ موجودہ معاہدے اور اپنی پوزیشنز سے متعلقہ معلومات بھی یہیں پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ تصفیہ جات سے بچنے کے لیے مارجن تناسب پر نظر رکھنا یقینی بنائیں۔ 

[Transfer] پر کلک کر کے، آپ اپنے Futures والیٹ اور دیگر Binance ایکو سسٹم کے درمیان فنڈز کو ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔


5. یہ آپ کے آرڈر کے اندرج کی فیلڈ ہے۔ اس آرٹیکل میں بعد ازاں آرڈر کی دستیاب اقسام کے بارے میں ہماری تفصیلی وضاحت کو ملاحظہ کریں۔ نیز یہاں پر آپ کراس مارجن اور مخصوص کردہ مارجن کے درمیان بھی سوئچ کر سکتے ہیں۔ اپنے موجودہ لیوریج کی سطح (بطور ڈیفالٹ 20x) پر کلک کر کے اپنے لیوریج کو ایڈجسٹ کریں۔


اپنی لیوریج کیسے ایڈجسٹ کی جائے

Binance Futures آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ ہر معاہدے کے لیے دستی طور پر لیوریج ایڈجسٹ کر سکیں۔ معاہدہ کو منتخب کرنے کے لیے، صفحے کی بالائی بائیں جانب جائیں اور موجودہ معاہدے پر ہوور کریں (بطور ڈیفالٹ BTCUSDT)۔ 

لیوریج ایڈجسٹ کرنے کے لیے، آرڈر کے اندراج کی فیلڈ پر جائیں اور اپنی موجودہ لیوریج کی تعداد (بطور ڈیفالٹ 20x) پر کلک کریں۔ سلائڈر ایڈجسٹ کرتے ہوئے، یا ٹائپ کرتے ہوئے لیوریج کی تعداد کو واضح کریں، اور [Confirm] پر کلک کریں۔

یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ پوزیشن سائز جتنا بڑا ہو گا، اس لیوریج کی تعداد اتنی ہی کم ہو گی جسے آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، پوزیشن سائز جتنا کم ہو گا، لیوریج کا سائز بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا جسے آپ استعمال کر سکتے ہیں۔

براہ مہربانی یاد رکھیں کہ زائد لیوریج کا استعمال تصفیے کے زائد خطرے کی وجہ بن سکتا ہے۔ ناتجربہ کار ٹریڈرز کو چاہیئے کہ لیوریج کی اس تعداد کا بغور جائزہ لیں جسے وہ استعمال کر سکتے ہیں۔ 


نقطہء قیمت اور آخری قیمت کے درمیان فرق کیا ہے؟

تیز اتار چڑھاؤ کی مدتوں میں قیمتوں میں اچانک اضافے اور غیر ضروری تصفیوں سے بچنے کے لیے، Binance Futures آخری قیمت اور نقطہء قیمت کا استعمال کرتا ہے۔

حتمی قیمت کو سمجھنا آسان ہے۔ اس کا مطلب وہ حتمی قیمت ہے جس پر معاہدہ ٹریڈ کیا گیا۔ بالفاظِ دیگر، ٹریڈنگ کی ہسٹری میں آخری ٹریڈ آخری قیمت کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ حقیقی منافع اور خسارہ کا حساب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے (منافع اور خسارہ)۔

نقطہء قیمت، قیمت میں ہیرا پھیری سے بچاؤ کی خاطر تیار کی گئی ہے۔ اس کا حساب کئی اسپاٹ ایکسچینجز کے فنڈنگ ڈیٹا اور قیمت کے ڈیٹا کی باسکٹ کے امتزاج کو استعمال کرتے ہوئے لگایا جا سکتا ہے۔ آپ کی تصفیہ جاتی قیمتوں اور غیر واقعی منافعے اور خسارے کا حساب نقطہء قیمت کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔

براہ مہربانی نوٹ کریں کہ نقطہء قیمت اور حتمی قیمت مختلف ہو سکتی ہے۔ 

جب آپ آرڈر کی کسی ایسی قسم کو محرک کے طور پر سیٹ کرتے ہیں جو اسٹاپ کی قیمت کا استعمال کرتی ہو، تو ایسی صورت میں آپ یہ فیصلہ لے سکتے ہیں کہ آپ کس قیمت کو محرک کے طور پر استعمال کرنا چاہیں گے - حتمی قیمت یا نقطہء قیمت۔ ایسا کرنے کے لیے، آرڈر کے اندراج کی فیلڈ کے نیچے موجود محرکات کے ڈراپ ڈاؤن مینو سے اس قیمت کو منتخب کریں جسے آپ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔


آرڈر کی کتنی اقسام دستیاب ہیں اور ان کا استعمال کب کیا جائے؟

Binance Futures پر آرڈر کی کئی اقسام ہیں جن کو آپ استعمال کر سکتے ہیں:


متعین آرڈر

متعین آرڈر وہ آرڈر ہوتا ہے جسے آپ ایک مخصوص متعین قیمت کے ساتھ آرڈر بُک پر دیتے ہیں۔ متعین آرڈر دینے پر، ٹریڈ پہ صرف اسی صورت میں عمل درآمد کیا جائے گا جب مارکیٹ کی قیمت آپ کی متعین قیمت (یا اس سے بہتر) تک پہنچ جائے۔ لہٰذا، آپ موجودہ مارکیٹ کی قیمت کی نسبت زیادہ قیمت پر فروخت کرنے یا کم قیمت پر خریدنے کے لیے متعین آرڈرز استعمال کر سکتے ہیں۔


مارکیٹ آرڈر

مارکیٹ آرڈر موجودہ طور پر دستیاب بہترین قیمت پر خریدنے یا فروخت کرنے کا آرڈر ہوتا ہے۔ یہ ان متعین آرڈرز کے مقابلے میں دیا جاتا ہے جوکہ اس سے پہلے آرڈر بُک پر دیے گئے تھے۔ ایک مارکیٹ آرڈر دیتے ہوئے، آپ ٹیکر کی حیثیت سے فیس کو ادا کریں گے۔


اسٹاپ متعین آرڈر

ایک اسٹاپ کی حد والا آرڈر کو سمجھنے کا آسان ترین طریقہ اسے اسٹاپ کی قیمت، اور متعین قیمت پر تقسیم کرنا ہے۔ اسٹاپ کی قیمت وہ قیمت ہوتی ہے جوکہ متعین آرڈر کو حرکت دیتی ہے، اور متعین قیمت اس متعین آرڈر کی قیمت ہوتی ہے جس کو حرکت دی گئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک دفعہ آپ کی اسٹاپ کی قیمت تک پہنچ جانے کے بعد، آپ کے متعین آرڈر کو فوری طور پر آرڈر بُک میں دے دیا جائے گا۔

اگرچہ اسٹاپ اور متعین قیمتیں ایک جیسی ہو سکتی ہیں، تاہم یہ ضروری نہیں۔ در اصل، آپ کے لیے یہ زیادہ محفوظ ہو گا کہ آپ بیچنے کے آرڈرز کے لیے اسٹاپ کی قیمت (ٹریگر قیمت) متعین قیمت سے ذرا سا زائد پہ سیٹ کریں، یا خریدنے کے آرڈرز کے لیے متعین قیمت سے ذرا سا کم پر سیٹ کریں۔ یہ امر اسٹاپ کی قیمت کو پہنچ جانے کے بعد آپ کے متعین آرڈر کے پُر ہونے کے امکان میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔


اسٹاپ مارکیٹ آرڈر

اسٹاپ کی حد والے آرڈر کی طرح، اسٹاپ مارکیٹ آرڈر بھی اسٹاپ کی قیمت بطور محرک استعمال کرتا ہے۔ تاہم، جب اسٹاپ کی قیمت آ پہنچتی ہے، تو یہ اس کے بجائے مارکیٹ آرڈر ٹریگر کر دیتا ہے۔


منافع لینے کا متعین آرڈر

اگر آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک اسٹاپ کی حد والا آرڈر کیا ہوتا ہے، تو آپ با آسانی سمجھ جائیں گے کہ ایک منافع لینے کا متعین آرڈر کیا ہوتا ہے۔ ایک اسٹاپ کی حد والے آرڈر کی مانند، اس میں بھی ٹریگر قیمت، جوکہ وہ قیمت ہوتی ہے جو آرڈر کو حرکت دیتی ہے، اور متعین قیمت کا عمل دخل ہوتا ہے، یعنی اس متعین آرڈر کی قیمت جوکہ اس وقت آرڈر بُک میں شامل کیا جاتا ہے۔ ایک اسٹاپ کی حد والے آرڈر اور منافع لینے کے متعین آرڈر میں مرکزی فرق یہ ہے کہ ایک منافع لینے کا متعین آرڈر صرف کھلی پوزیشنز کم کرنے کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

ایک منافع لینے کا متعین آرڈر خطرات کی نظم کاری اور قیمت کی مخصوص سطحوں پر منافے کو لاک کرنے کے لیے ایک کارآمد ٹول ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ آرڈر کی دیگر اقسام کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ اسٹاپ کی حد والے آرڈرز، جوکہ آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ اپنی پوزیشنز پر مزید اختیار پا سکیں۔

براہ مہربانی نوٹ فرمائیں کہ یہ OCO آرڈرز نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پہ، اگر آپ کا اسٹاپ کی حد والا آرڈر اس صورت میں بھی مقبول ہوتا ہے جب آپ کا منافع لینے کا متعین آرڈر بھی فعال ہو، تو منافع لینے کا متعین آرڈر اس وقت تک فعال رہتا ہے جب تک کہ آپ اس کو دستی طور پر منسوخ نہ کر دیں۔
آپ آرڈر کے اندراج کی فیلڈ میں اسٹاپ کی حد کے آپشن کے تحت منافع لینے کے متعین آرڈر کو سیٹ کر سکتے ہیں۔


منافع لینے کا متعین آرڈر

منافع لینے کے متعین آرڈر کی طرح، نفع لینے کی مارکیٹ کا آرڈر بھی اسٹاپ کی قیمت بطور محرک استعمال کرتا ہے۔ تاہم، جب اسٹاپ کی قیمت آ پہنچتی ہے، تو یہ اس کے بجائے مارکیٹ آرڈر ٹریگر کر دیتا ہے۔
آپ آرڈر کے اندراج کی فیلڈ میں اسٹاپ مارکیٹ آپشن کے تحت نفع لینے کی مارکیٹ کے آرڈر کو سیٹ کر سکتے ہیں۔


ٹریلنگ اسٹاپ آرڈر

ایک ٹریلنگ اسٹاپ آرڈر اس سلسلے میں آپ کی مدد کرتا ہے کہ اپنی کھلی پوزیشنز پر نقصانات کے امکان محدود بناتے ہوئے منافع جات کو لاک کر سکیں۔ ایک لانگ پوزیشن کی صورت میں، اس سے مراد یہ ہے کہ قیمت اوپر جانے کی صورت میں ٹریلنگ اسٹاپ بھی اوپر ہی جائے گا۔ تاہم، اگر قیمت نیچے جاتی ہے، تو ٹریلنگ اسٹاپ کی حرکت رک جاتی ہے۔ اگر یہ قیمت کسی مختلف سمت میں ایک مخصوص فیصد (جس کو کال بیک ریٹ کہا جاتا ہے) تک حرکت کرتی ہے، تو بیچنے کا آرڈر جاری کیا جاتا ہے۔ شارٹ پوزیشن کا بھی یہی حساب ہے، تاہم اس کے برعکس ہے۔ مارکیٹ کے ساتھ ٹریلنگ اسٹاپ بھی نیچے چلا جاتا ہے، تاہم مارکیٹ اوپر جانے کی صورت میں اس کی حرکت رک جاتی ہے۔ اگر یہ قیمت کسی اور سمت میں ایک مخصوص فیصد تک حرکت کرتی ہے، تو خریداری کے آرڈر کو جاری کیا جاتا ہے۔

فعالیتی قیمت وہ قیمت ہوتی ہے جوکہ ٹریلنگ اسٹاپ آرڈر کو حرکت دیتی ہے۔ اگر آپ فعالیتی قیمت کو واضح نہیں کرتے، تو بطور ڈیفالٹ اسے موجودہ حتمی قیمت یا نقطہء قیمت پہ مرتب کر دیا جائے گا۔ آپ اندراج کی فیلڈ پر نیچے جا کر یہ سیٹ کر سکتے ہیں کہ اسے کونسی قیمت کو بطور محرک استعمال کرنا چاہیئے۔ 

کال بیک ریٹ ہی وہ عنصر ہے جو اس شرح فیصد کا تعین کرتی ہے جس کی بنیاد پر ٹریلنگ اسٹاپ قیمت "ٹریل" کرے گا۔ لہٰذا، اگر آپ کال بیک ریٹ 1% پر سیٹ کرتے ہیں، تو ٹریڈ آپ کی سمت میں جانے کی صورت میں ٹریلنگ اسٹاپ 1% کے فاصلے کے ساتھ قیمت کی پیروی جاری رکھے گا۔ اگر یہ قیمت آپ کی ٹریڈ کی مخالف سمت میں 1% سے زائد حرکت کرتی ہے، تو خریدنے یا یچنے کے آرڈر کو جاری کیا جاتا ہے (جس کا دارومدار آپ کی ٹریڈ کی سمت پر ہوتا ہے)۔


Binance Futures کیلکولیٹر کیسے استعمال کریں

ویڈیو ٹیوٹوریل یہاں دستیاب ہے۔

آپ آرڈر کے اندراج کی فیلڈ میں اوپر جا کر کیلکولیٹر کو تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ لانگ یا شارٹ پوزیشنز میں داخل ہونے سے پہلے مالیتوں کا حساب لگا سکیں۔ آپ ہر ٹیب میں لیوریج سلائڈر ایڈجسٹ کر سکتے ہیں تاکہ اسے اپنے حساب کی بنیاد کے طور پر استعمال کر سکیں۔

اس کیلکولیٹڑ میں تین ٹیبز ہوتی ہیں:

  • منافع اور خسارہ – مطلوبہ ابتدائی اور خارجی قیمت، اور پوزیشن کے سائز کی بنیاد پر اپنے ابتدائی مارجن، منافع اور خسارہ (PnL)، اور ایکویٹی پر منافع (ROE) کا حساب لگانے کے لیے اس ٹیب کو استعمال کریں۔
  • ہدفی قیمت – اس امر کا حساب لگانے کے لیے اس ٹیب کو استعمال کریں کہ آپ کو منافعے کی مطلوبہ فیصد تک پہنچنے کے لیے اپنی پوزہشن سے کس قیمت پر خارج ہونا ہو گا۔
  • تصفیہ کی قیمت – اپنے والیٹ بیلنس، اندراج کی متوقع قیمت، اور پوزیشن سائز کی بنیاد پر اپنی تخمینہ شدہ تصفیہ کی قیمت کا حساب لگانے کے لیے یہ ٹیب استعمال کریں۔ 


ہیج موڈ کیسے استعمال کیا جائے

ہیج موڈ میں، آپ ایک ہی معاہدے کے لیے بیک وقت لانگ اور شارٹ پوزیشنز کو ہولڈ کر سکتے ہیں۔ آپ ایسا کیوں کرنا چاہیں گے؟ یوں کہہ لیں، کہ ایک لمبی مدت کے لیے آپ کے Bitcoin کی قیمت کا رجحان بُل کی جانب زیادہ ہوتا ہے، تاکہ آپ کی لانگ پوزیشن کھلی رہے۔ بیک وقت، آپ مختصر ٹائم فریمز کے دوران فوری شارٹ پوزیشنز لے سکتے ہیں۔ ہیج موڈ آپ کو بالکل یہی عمل انجام دینے کے قابل بناتا ہے – اس صورت میں، آپ کی فوری شارٹ پوزیشنز آپ کی لانگ پوزیشن پر اثرانداز نہیں ہوں گی۔

ڈیفالٹ پوزیشن موڈ یکطرفہ موڈ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے، کہ آپ ایک ہی معاہدے کے لیے بیک وقت لانگ اور شارٹ پوزیشنز کو نہیں کھول سکتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسا کرنے کی کوشش کی، تو یہ پوزیشنز ایک دوسرے کو منسوخ کر دیں گی۔ لہٰذا، اگر آپ ہیج موڈ استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اسے دستی طور پر فعال کرنا ہو گا۔ اس عمل کو انجام دینے کا طریقہ پیش ہے۔

1۔ اسکرین کے بالائی دائیں کونے پر جائیں اور [Preference] کو منتخب کریں۔

2۔ [Position Mode] ٹیب پر جائیں اور [Hedge Mode] کو منتخب کریں۔

براہ مہربانی نوٹ فرمائیں کہ اگر آپ کے کوئی آرڈرز یا پوزیشنز کھلی ہیں، تو آپ اپنا پوزیشن موڈ ایڈجسٹ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔


فنڈنگ ریٹ کیا ہوتا ہے اور اس کو کیسے چیک کیا جائے؟

فنڈنگ ریٹ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایک دائمی فیوچرز معاہدے کی قیمت بنیادی اثاثے (اسپاٹ) کی قیمت سے جتنی ہو سکے قریب رہے۔ ظاہر ہے، کہ تمام ٹریڈرز اپنی کھلی پوزیشنز کی بنیاد پر ایک دوسرے کو ادائیگی کرتے ہیں۔ اس بات کا تعین کہ کون سا فریق ادائیگی وصول کرے گا، دائمی فیوچرز کی قیمت اور اسپاٹ کی قیمت کے مابین موجود فرق کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

اگر فنڈنگ ریٹ مثبت ہو، تو لانگز شارٹس کو ادائیگی کریں گے۔ اگر فنڈنگ ریٹ منفی ہو، تو شارٹس لانگز کو ادائیگی کریں گے۔

اگر آپ اس عمل کے حوالے سے مزید جاننا چاہتے ہیں، تو دائمی فیوچرز معاہدات کیا ہوتے ہیں؟ کو ملاحظہ کریں۔

تو آپ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟ آپ کی کھلی ہوئی پوزیشنز اور فنڈنگ ریٹس کی بنیاد پر، آپ یا تو فنڈنگ کی ادائیگیوں کو ادا کریں گے یا وصول کریں گے۔ Binance Futures پر، فنڈنگ کی یہ ادائیگیاں ہر 8 گھنٹوں بعد کی جاتی ہیں۔ آپ صفحے کے اوپر جا کر، نقطہء قیمت کے ساتھ اگلی فنڈنگ کا وقت اور تخمینہ شدہ فنڈنگ ریٹ کو چیک کر سکتے ہیں۔

اگر آپ ہر معاہدے کے لیے پچھلے فنڈنگ ریٹس کو چیک کرنا چاہتے ہیں، تو [Information] پر ہوور کریں اور [Funding Rate History] کو منتخب کریں۔


صرف پوسٹ کریں، قابل نفاذ وقت، اور صرف کم کریں سے کیا مراد ہے؟

جب آپ متعین آرڈرز کو استعمال کرتے ہیں، تو آپ اپنے آرڈرز کے ساتھ اضافی ہدایات کو سیٹ کر سکتے ہیں۔ Binance Futures پر، یہ ہدایات آیا صرف پوسٹ کریں یا قابل نفاذ وقت (TIF) پر مشتمل ہو سکتی ہیں، اور یہی آپ کے متعین آرڈرز کی اضافی خصوصیات کو متعین کرتی ہیں۔ آپ آرڈر کے اندراج کی فیلڈ پر نیچے جا کر ان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

فقط پوسٹ کریں سے مراد یہ ہے کہ آپ کا آرڈر پہلے آپ کی آرڈر بُک میں شامل کیا جائے گا اور آرڈر بُک پر کبھی بھی کسی موجودہ آرڈر کے مقابلے میں انجام نہیں دیا جائے گا۔ اس صورت میں یہ کارآمد ثابت ہوتا ہے اگر آپ صرف میکر فیس کو ادا کرنا چاہتے ہیں۔

TIF ہدایات آپ کو یہ واضح کرنے کے قابل بناتی ہیں کہ آپ کے آرڈرز کی انجام دہی یا میعاد پوری ہونے کی تاریخ سے پہلے یہ کتنی دفعہ فعال رہیں گے۔ آپ TIF ہدایات کے لیے ان میں سے ایک آپشن کو منتخب کر سکتے ہیں:

  • GTC (منسوخ ہونے تک ٹھیک ہے): آرڈر اس وقت تک فعال رہے گا جب تک کہ یہ پورا یا منسوخ نہ ہو جائے۔
  • IOC (فوری انجام دہی یا منسوخی): اس آرڈر کو فوری طور پر انجام دے دیا جائے گا (آیا مکمل یا پھر جزوی طور پر)۔ اگر اسے جزوی طور پر انجام دیا گیا، تو آرڈر کے نامکمل حصے کو منسوخ کر دیا جائے گا۔
  • FOK (پر کریں یا منسوخ کریں): آرڈر لازمی طور پر پوری طرح سے انجام دیا جانا چاہیئے۔ اگر نہیں، تو یہ جزوی طور پر بھی انجام نہیں دیا جائے گا۔

جب آپ یکطرفہ موڈ پر ہوتے ہیں، تو صرف کم کریں منتخب کرنے سے اس بات کی یقین دہانی ہو جاتی ہے کہ آپ کی طرف سے سیٹ کیے جانے والے نئے آرڈرز صرف کم ہی ہوں گے، اور آپ کی موجودہ طور پر کھلی پوزیشنز میں کبھی بھی اضافہ نہیں کریں گے۔


لیکویڈیٹ ہونے کے خطرے کے حوالے سے آپ کی کیا پوزیشن ہے؟

تصفیہ اس صورت میں پیش آتا ہے جب آپ کا مارجن بیلنس بحالی کے مطلوبہ مارجن سے نیچے گر جاتا ہے۔ مارجن بیلنس آپ کے Binance Futures کے اکاؤنٹ کا بیلنس ہوتا ہے، جس میں آپ کا غیر واقعی منافع اور خسارہ (منافع اور خسارہ) بھی شامل ہوتا ہے۔ لہٰذا، آپ کے منافعے اور خسارے مارجن بیلنس کی قدر میں تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر آپ کراس مارجن موڈ کو استعمال کر رہے ہیں، تو یہی بیلنس آپ کی تمام پوزیشنز کے درمیان شیئر کیا جائے گا۔ اگر آپ مخصوص کردہ مارجن موڈ کو استعمال کر رہے ہیں، تو اس بیلنس کو ہر انفرادی پوزیشن کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے۔

بحالی کا مارجن وہ کم از کم قدر ہے جو آپ کو اپنی پوزیشنز کھلی رکھنے کے لیے درکار ہے۔ یہ آپ کی پوزیشنز کے سائز کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ بڑی پوزیشنز کے لیے بحالی کے زائد مارجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

 آپ نچلے دائیں کونے پر اپنی موجودہ مارجن کے تناسب کو ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ جب آپ کے مارجن کا تناسب 100% تک پہنچ جائے، تو آپ کی پوزیشنز کا تصفیہ کر دیا جائے گا۔

تصفیہ ہونے کی صورت میں، آپ کے تمام کھلے آرڈرز کومنسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مثالی طور پر، آپ کو خودکار تصفیے سے بچنے کے لیے اپنی پوزیشنز کا ٹریک رکھنا چاہیئے، جس کے لیے اضافی فیس عائد کی جاتی ہے۔ اگر آپ کی پوزیشن تصفیہ کے نزدیک ہو، تو خودکار سرمایہ کاری کا انتظار کرنے کی بجائے دستی طور پر پوزیشن بند کرنے پر غور کرنا کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔


خودکار ڈی لیوریجنگ کیا ہوتی ہے، اور یہ کیسے آپ پر اثرانداز ہوتی ہے؟

جب کسی ٹریڈر کے اکاؤنٹ کا سائز 0 سے نیچے چلا جاتا ہے، تو خساروں کا ازالہ کرنے کے لیے انشورنس فنڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، بعض ایسی مارکیٹس کے ماحول میں جہاں اتار چڑھاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، انشورنس کا فنڈ خساروں کے ازالے کے لیے ناکافی ہو سکتا ہے، اور ان کے ازالے کے لیے کھلی پوزیشنز کم کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس قسم کے وقت میں، آپ کی کھلی پوزیشنز بھی کم ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ان پوزیشنز میں کمیوں کی ترتیب کا تعین ایک کیو کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جہاں سب سے زیادہ نفع حاصل کرنے والے اور زائد لیوریج کے حامل ٹریڈرز قطار میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ آپ [Positions tab] میں [ADL] کے اوپر ہوور کر کے قطار میں اپنی موجودہ پوزیشن کو چیک کر سکتے ہیں۔


اختتامی خیالات

Futures معاہدات وہ ڈیریویٹوز ہوتے ہیں جو ٹریڈرز کو مستقبل میں اثاثہ خریدنے یا فروخت کرنے کا حق فراہم کرتے ہیں۔ تاہم روایتی Futures معاہدات کے برعکس، دائمی فیوچرز معاہدات کے تصفیے کی تاریخ طے نہیں ہوتی۔ تب بھی، ناتجربہ کار ٹریڈرز کے لیے یہ ڈیریویٹوز الجھن کا باعث بن سکتے ہیں، لہٰذا مالیاتی خطرات مول لینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ معاہدات کیسے کام کرتے ہیں۔ جیسا کہ تذکرہ کیا گیا، آپ اصل فنڈز خطرے میں ڈالے بغیر پلیٹ فارم آزمانے کے لیے Binance Futures ٹیسٹ نیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔