غیر مرکزی فنانس (DeFi) کے لیے ایک نوآموز فرد کا ہدایت نامہ
امواد کا جدول
تعارف
غیر مرکزی فنانس (DeFi) کیا ہوتا ہے؟
DeFi کے بنیادی فوائد کیا ہیں؟
DeFi کے استعمال کی ممکنہ صورتیں کیا ہیں؟
اسمارٹ معاہدے DeFi میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
DeFi کو کن مسائل کا سامنا ہے؟
DeFi کو کس قسم کے خطرات کا سامنا ہے؟
میں DeFi پراجیکٹس کو کہاں تلاش کر سکتا ہوں؟
مجھے DeFi پراجیکٹس تک رسائی کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟
DeFi بمقابلہ روایتی فنانس
DeFi بمقابلہ مرکزی فنانس (CeFi)
DeFi اور اوپن بینکنگ میں کیا فرق ہے؟
اختتامی خیالات
غیر مرکزی فنانس (DeFi) کے لیے ایک نوآموز فرد کا ہدایت نامہ
ہوم
آرٹیکلز
غیر مرکزی فنانس (DeFi) کے لیے ایک نوآموز فرد کا ہدایت نامہ

غیر مرکزی فنانس (DeFi) کے لیے ایک نوآموز فرد کا ہدایت نامہ

جدید
شائع کردہ Dec 16, 2019اپڈیٹ کردہ Nov 10, 2022
12m

TL؛DR

DeFi صارفین کو محض معمولی کرپٹو کے حامل ایک والیٹ کے ذریعے کرپٹو کی مالیاتی سروسز تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ مختلف قسم کی DApps کئی بلاک چینز پر ادھار دینے، لیکویڈیٹی کی فراہمی، سواپس، اسٹیکنگ اور مزید بہت سی چیزوں کے حوالے سے سہولت فراہم کرتی ہے۔

اگرچہ اس سے قبل DeFi صرف Ethereum پر وجود رکھتی تھی، لیکن اب اسمارٹ معاہدے کی صلاحیتوں کی حامل اکثر بلاک چینز DeFi DApps کو ہوسٹ کرتی ہیں۔ اسمارٹ معاہدے DeFi کی پیشکش کردہ سروسز کے لیے لازم و ملزوم ہیں، جن میں اسٹیکنگ، سرمایہ کاری، قرض دینا، ہارویسٹ کرنا، اور مزید بہت کچھ شامل ہے۔

اب تک، DeFi نے لوگوں کو اپنے منافعے کو بہتر بنانے، غیر مرکزی مارکیٹ پلیسز میں شامل ہونے، بینکنگ سروسز تک رسائی حاصل کرنے، اور فوری طور پر ادھار دینے اور ادھار لینے کے عمل میں مشغول ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ تاہم، DeFi بھی خطرات سے پاک نہیں، اور آپ کو خطرات مول لینے سے قبل کسی بھی پراجیکٹ کے بارے میں ہمیشہ احتیاط سے تحقیق کر لینی چاہیئے۔


تعارف

DeFi کی دنیا میں داخل ہونا کئی لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ الجھن کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ کچھ وقت کی HODLing کے بعد، یہ خیال عام ہے کہ آپ اپنے پورٹ فولیو سے کچھ اضافی نفع جات کیسے کشید کر سکتے ہیں۔ تاہم، جب DeFi کی بات ہو، تو اس میں دریافت کرنے کے لیے بہت سی چیزیں موجود ہے۔

اگر DeFi DApps اور پراجیکٹس کو ذمہ داری سے استعمال کیا جائے، تو یہ طاقتور ٹولز بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ شامل ہونے میں عجلت کا مظاہرہ کریں، تو آپ بآسانی مغلوب ہو سکتے ہیں اور سرمایہ کاری کے غیر دانشمندانہ فیصلے کر سکتے ہیں۔ اس میں شامل ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ خطرات کو جانیں اور معلوم کریں کہ کون سی چیز آپ کے لیے موزوں ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آیئے ان بنیادی چیزوں کے بارے میں دریافت کریں جوکہ DeFi پر اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے آپ کو درکار ہوں گی۔


غیر مرکزی فنانس (DeFi) کیا ہوتا ہے؟

غیر مرکزی فنانس (یا صرف DeFi) سے مراد مالیاتی اپلیکیشنز کا ایک ایسا ایکو سسٹم ہے جسے بلاک چین نیٹ ورکس پر تیار کیا گیا ہے۔ 

مزید آسان الفاظ میں، DeFi کی اصطلاح سے مراد ایک ایسی تحریک ہو سکتی ہے جس کا مقصد ایک اوپن سورس، عوامی، اور شفاف مالیاتی سروس کا حامل ایکو سسٹم تخلیق کرنا ہے۔ وہ جو ہر ایک کے لیے دستیاب ہو اور کسی مرکزی اتھارٹی کے بغیر کام کرے۔ صارفین کو اپنے اثاثوں پر مکمل اختیار حاصل ہو گا اور وہ پیئر ٹو پیئر (P2P)، غیر مرکزی ایپلیکیشنز (DApps) کے ذریعے اس ایکو سسٹم کے ساتھ تعامل انجام دیں گے۔

DeFi کا بنیادی فائدہ مالیاتی سروسز تک آسان رسائی کو فعال بنانا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو روایتی مالیاتی سسٹم سے الگ تھلگ ہیں۔ DeFi کا ایک اور فائدہ وہ نمونہ جاتی فریم ورک ہے جس پر اسے تیار کیا گیا ہے، جس میں عوامی بلاک چینز پر باہمی عمل کے قابل DeFi ایپلیکیشنز بھی شامل ہیں۔ ان میں مکمل طور پر نئی مالیاتی مارکیٹس، پراڈکٹس، اور سروسز تخلیق کرنے کی استعداد موجود ہے۔


DeFi کے بنیادی فوائد کیا ہیں؟

روایتی مالیات کا انحصار بینکس جیسے اداروں پر ہوتا ہے جو ثالثی فراہم کرنے کے لیے درمیانی فریقین اور عدالتوں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔

DeFi ایپلیکیشنز کو کسی قسم کے ثالثین یا درمیانی فریقین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کا کوڈ ہر ممکنہ تنازعے کا حل فراہم کرتا ہے، اور صارفین تمام اوقات میں اپنے فنڈز پر اختیار برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہ خودکار صلاحیت ان پراڈکٹس کی فراہمی اور استعمال سے منسلک اخراجات کو کم کر دیتی ہے اور نسبتاً مزید ہموار مالیاتی سسٹم کا موقع فراہم کرتی ہے۔

چونکہ یہ نئی مالیاتی سروسز بلاک چینز میں سب سے اوپر نصب کی جاتی ہیں، اس لیے یک نکاتی ناکامی کا امکان خارج ہو جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا بلاک چین پر ریکارڈ کیا جاتا ہے اور ہزاروں نوڈز پر تقسیم کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں سنسر شپ یا سروس کے ممکنہ طور پر بند ہو جانے کا اقدام مشکل تر ہو جاتا ہے۔ 

اس طرح کے اوپن ایکو سسٹم کا ایک اور فائدہ ایسے افراد کے لیے آسان رسائی ہے جو بصورت دیگر کسی قسم کی مالیاتی سروسز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ چونکہ روایتی مالیاتی سسٹم منافع کمانے والے درمیانی فریقین پر انحصار کرتا ہے، اس لیے ان کی سروسز عام طور پر کم آمدنی کی حامل کمیونٹی کے مقامات پر موجود نہیں ہوتی ہیں۔ تاہم، DeFi کے ساتھ، اخراجات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں، اور کم آمدنی والے افراد بھی مالیاتی سروسز کی کئی اقسام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


DeFi کے استعمال کی ممکنہ صورتیں کیا ہیں؟

ادھار دینا اور ادھار لینا

DeFi کے ایکو سسٹم میں ادھار دینے والے اوپن پروٹوکولز ایپلیکیشن کی مقبول ترین اقسام میں سے ایک ہیں۔ روایتی کریڈٹ سسٹم کے مقابلے میں ادھار لینے اور دینے کے اوپن، اور غیر مرکزی عمل کے بہت سے فوائد ہیں۔ ان میں ٹرانزیکشن کا فوری تصفیہ، کریڈٹ کی پڑتالوں سے گریز، اور کریڈٹ کی پڑتالوں کے بغیر ڈیجیٹل اثاثوں کو ضمانت یافتہ بنانے کی استعداد شامل ہے۔

چونکہ ادھار دینے کی یہ سروسز عوامی بلاک چینز پر بنائی گئی ہیں، اس لیے یہ اعتماد کے مطلوبہ معیار کو کم کرتی ہیں اور ان میں کرپٹو گرافک توثیق کے طریقوں کی ضمانت بھی موجود ہوتی ہے۔ بلاک چین پر موجود ادھار دینے کی مارکیٹ پلیسز فریق مخالف کے خطرے کو کم کرتی ہیں اور ادھار دینے اور ادھار لینے کے عمل کو نسبتاً مزید سستا، تیز تر، اور مزید لوگوں کے لیے قابل رسائی بناتی ہیں۔

مالیاتی بینکنگ کی سروسز

چونکہ DeFi ایپلیکیشنز دراصل مالیاتی ایپلیکیشنز ہوتی ہیں، اس لیے مالیاتی بینکنگ کی سروسز ان کے استعمال کی ایک واضح صورت ہے۔ ان میں اسٹیبل کوائنز کا اجراء، مورگیجز، اور انشورنس شامل ہو سکتے ہیں۔

جیسے جیسے بلاک چین انڈسٹری پختہ ہو رہی ہے، اسٹیبل کوائنز کی تخلیق پر توجہ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایسے کرپٹو اثاثہ جات ہوتے ہیں جو عموماً حقیقی دنیا کے ان اثاثوں سے پیگ کردہ ہوتے ہیں جنہیں ڈیجیٹل سطح پر بآسانی ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ کبھی کبھار کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، اس لیے غیر مرکزی اسٹیبل کوائنز کو روزمرہ استعمال کے لیے ایسی ڈیجیٹل کرنسیز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جو کسی مرکزی اتھارٹی کی جانب سے جاری نہیں کی جاتیں اور نہ ہی اس کے زیرِ نگرانی ہوتی ہیں۔ 

اس میں شامل درمیانی فریقین کی تعداد کی وجہ سے، مورگریجز حاصل کرنا نسبتاً مہنگا اور وقت طلب ہوتا ہے۔ ان اسمارٹ معاہدوں کے ساتھ، مالیاتی توثیق اور قانونی فیسوں میں نمایاں طور پر کمی آ سکتی ہے۔

بلاک چین پر انشورنس درمیانی فریقین کی ضرورت کو ختم کر سکتی ہے اور کئی شرکاء کے درمیان خطرے کو تقسیم کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ کم پریمیئمز کے ساتھ سروس کے یکساں معیار کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ 

اگر آپ بلاک چین اور بینکنگ کے موضوع پر مزید پڑھنا چاہتے ہیں، تو ملاحظہ کریں کہ بینکنگ انڈسٹری پر بلاک چین ٹیکنالوجی کس طرح سے اثر انداز ہو گی۔

غیر مرکزی مارکیٹ پلیسز

دستیاب ہونے والی مقبول ترین DeFi ایپلیکیشنز میں سے چند غیر مرکزی ایکسچینجز (DEXs) ہیں، جیسا کہ Binance DEX۔ یہ پلیٹ فارمز صارفین کو اپنے فنڈز رکھنے کے لیے کسی قابل اعتماد درمیانی فریق ( ایکسچینج) کی ضرورت کے بغیر ڈیجیٹل اثاثے ٹریڈ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ ٹریڈزاسمارٹ معاہدوں کی مدد سے براہ راست صارف کے والیٹس کے مابین کی جاتی ہیں۔ 

بعض ایکسچینجز، جنہیں خودکار مارکیٹ میکرز (AMMs) کے نام سے جانا جاتا ہے، آپ کی ٹریڈ سے براہ راست مماثلت کے حامل کسی فریقِ مخالف کی ضرورت کے بغیر، ٹریڈنگ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے لیکویڈیٹی پولز کا استعمال کرتے ہیں۔ Uniswap اور Pancake Swap دو بہترین مثالیں ہیں۔ چونکہ انہیں بحالی کے کام اور نظم کاری کی ضرورت نسبتاً کم ہوتی ہے، اس لیے عام طور پر غیر مرکزی ایکسچینجز کی ٹریڈنگ فیس، مرکزی ایکسچینجز کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں۔

بلاک چین ٹیکنالوجی کو روایتی مالیاتی آلات کی مختلف اقسام کے اجراء اور ان کی ملکیت کی اجازت دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایپلیکیشنز ایک ایسے غیر مرکزی طریقے سے کام کریں گی جو تحویلی افراد کی ضرورت کو ختم کر دے گا اور یک نکاتی ناکامی کے امکان کو بھی خارج کر دے گا۔

مثال کے طور پر، سکیورٹی ٹوکن جاری کرنے والے پلیٹ فارمز، اجراء کنندگان کو ایسے ٹولز اور وسائل فراہم کر سکتے ہیں کہ وہ حسبِ منشاء پیرا میٹرز کے ساتھ بلاک چین پر ٹوکن کی طرز پر بنائی گئی سکیورٹیز لانچ کر سکیں۔

ہو سکتا ہے کہ دیگر پراجیکٹس ڈیریویٹوز، مصنوعی اثاثہ جات، پیشین گوئی کی غیر مرکزی مارکیٹس، اور مزید بہت سی چیزوں کی اجازت دیں۔

بہتر منافع

DeFi DApps کو اسٹیکنگ، انعامی پولز، اور سود کی حامل دیگر پراڈکٹس سے حاصل کردہ مجموعی منافعے کو خودکار اور بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات آپ کو منافعے کی احسن کاری کا عمل منافع جاتی فارمنگ کے نام سے سنائی دے سکتا ہے۔ 

مثال کے طور پر، آپ Bitcoin مائننگ، BNB کی تفویض کاری، یا لیکویڈیٹی کی فراہمی کے عوض باضابطہ انعامات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسمارٹ معاہدہ آپ کے انعامات لے سکتا ہے، بنیادی اثاثے کا مزید حصہ خرید سکتا ہے، اور اس کی دوبارہ سے سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر آپ کے منافع جات میں خاطر خواہ اضافہ کرتے ہوئے، آپ کا سود جمع کرے گا۔

بلاشبہ، آپ دستی طور پر بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ تاہم، اسمارٹ معاہدہ استعمال کرنے سے وقت کی بچت ہوتی ہے اور کمپاؤنڈنگ میں بہتری آتی ہے۔ آپ کے فنڈز کو عام طور پر دوسرے صارفین کے فنڈز کے ساتھ ہی پول میں شامل کر دیا جاتا ہے، یعنی گیس کی فیس بہتر منافعے کے حامل اسمارٹ معاہدے کے تمام ممبرز کے مابین شیئر کی جاتی ہیں۔ 


اسمارٹ معاہدے DeFi میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

غیر مرکزی فنانس کی اکثر پہلے سے موجود اور ممکنہ ایپلیکیشنز میں اسمارٹ معاہدہ جات کی تخلیق اور ان پر عمل درآمد شامل ہے۔ جہاں ایک عمومی معاہدہ اس معاہدے میں داخل ہونے والی اکائیوں کے درمیان تعلق کی شرائط کی وضاحت کے لیے قانونی اصطلاحات کا استعمال کرتا ہے، وہیں ایک اسمارٹ معاہدہ، کمپیوٹر کوڈ کا استعمال کرتا ہے۔

چونکہ ان کی اصطلاحات کمپیوٹر کوڈ کی شکل میں لکھی جاتی ہیں، اس لیے اسمارٹ معاہدہ جات کو یہ منفرد صلاحیت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ان شرائط کو خودکار طریقے سے نافذ کر سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں بہت سے ایسے کاروباری عوامل پر قابلِ بھروسہ عملدرآمد اور خودکار عمل فعال ہو جاتے ہیں جنہیں فی الوقت دستی نگرانی درکار ہوتی ہے۔

اسمارٹ معاہدہ جات کا استعمال تیز، اور آسان تر ہوتا ہے اور یہ دونوں فریقین کے لیے خطرے کے امکان کو کم کر دیتا ہے۔ دوسری جانب، اسمارٹ معاہدے نئی اقسام کے خطرات کو بھی متعارف کرواتے ہیں۔ چونکہ کمپیوٹر کوڈ کو بگز اور کمزوریوں کا خطرہ لاحق رہتا ہے، اسی لیے اسمارٹ معاہدات میں لاک کردہ مالیت اور خفیہ معلومات کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔


DeFi کو کن مسائل کا سامنا ہے؟

  • خراب کارکردگی: بلاک چینز اپنے مرکزی فریقینِ مخالف کے مقابلے میں بدیہی طور پر سست رفتار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ان پر تیار کردہ ایپلیکیشنز متاثر ہوتی ہیں۔ DeFi کے ڈویلپرز کو ان خامیوں پر توجہ دینے اور ان کے مطابق اپنی پراڈکٹس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

  • صارفی نقص کا زائد خطرہ: DeFi ایپلیکیشنز درمیانی فریقین کی ذمہ داری صارف کو منتقل کر دیتی ہیں۔ یہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک منفی پہلو ہو سکتا ہے۔ جب پراڈکٹس کو ناقابلِ تغیر بلاک چینز پر نصب کیا جاتا ہے، تو ایسی پراڈکٹس کو ڈیزائن کرنا ایک سخت چیلنج ثابت ہو سکتا ہے کہ جو صارفی نقص کے خطرے کو کم کر سکیں۔

  • خراب صارفی تجربہ: فی الوقت، DeFi ایپلیکیشنز کو استعمال کرتے ہوئے صارف کی جانب سے اضافی کوشش درکار ہوتی ہے۔ عالمی مالیاتی سسٹم کا بنیادی جزو بننے کے لیے DeFi ایپلیکیشنز پر لازم ہے کہ وہ ایک ایسا مادی فائدہ فراہم کریں جوکہ روایتی سسٹم سے منتقل ہونے میں صارفین کی حوصلہ افزائی کرے۔

  • بے ترتیب ایکو سسٹم: استعمال کی کسی مخصوص صورت کے لیے موزوں ترین ایپلیکیشن تلاش کرنا خاصا مشکل ثابت ہو سکتا ہے، اور صارفین کے پاس بہترین انتخابات تلاش کرنے کی صلاحیت ہونا لازم ہے۔ محض ایپلیکیشنز تیار کرنا ہی چیلنج نہیں، بلکہ یہ بھی سوچنا ہو گا کہ وسیع تر DeFi ایکو سسٹم میں انہیں کس طرح سے بروئے کار لایا جائے۔


DeFi کو کس قسم کے خطرات کا سامنا ہے؟

اگرچہ DeFi کی دنیا دلچسپ APYs کی پیشکش کر سکتی ہے، تاہم یہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اگرچہ یہ غیر مرکزی ہیں، تاہم اس کے باوجود بھی آپ کسی ضرورت کی طرح مالیاتی سروسز کا استعمال کرتے ہیں، اور ان میں شامل بعض خطرات جانے پہچانے معلوم ہوتے ہیں:

1. فریقِ مخالف کا خطرہ: اگر آپ کرپٹو کے قرضہ جات یا دیگر کسی بھی قسم کا ادھار دینے میں حصہ لیتے ہیں، تو آپ کو اس چیز کا خطرہ لاحق ہے کہ فریقِ مخالف دوبارہ سے اپنے قرض کی ادائیگی نہ کرے۔

2. ضابطہ کاری کا خطرہ: بعض سروسز اور پراجیکٹس کی قانونی حیثیت کا پتہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے اسمارٹ معاہدے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جو بعد ازاں ضابطہ کاری کے مسائل کی وجہ سے بند ہو جاتا ہے، تو آپ کے فنڈز کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

3. ٹوکن کا خطرہ: آپ کے ہولڈ کردہ اثاثہ جات کے خطرے کی سطوحات مختلف ہوتی ہیں جو ان کی لیکویڈیٹی، بھروسہ مندی، ٹوکن کے اسمارٹ معاہدے کی سکیورٹی اور منسلکہ پراجیکٹ اور ٹیم کے ذریعے متاثر ہوتی ہیں۔ چونکہ DeFi کی دنیا میں مارکیٹ کی کم حد کے حامل ٹوکنز موجود ہوتے ہیں، اس لیے اس میں ٹوکن کا خطرہ خاص طور پر زیادہ ہو سکتا ہے۔

4. سافٹ ویئر کا خطرہ: کوڈ میں موجود کمزوریاں ان اسمارٹ معاہدہ جات کی سکیورٹی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جن میں آپ نے سرمایہ کاری کر رکھی ہوتی ہے۔ DeFi DApps کے ساتھ مربوط ہونے اور ان کو مخصوص اجازتیں دینے کی وجہ سے آپ کے والیٹ پر بھی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

5. عارضی خسارہ: اگر آپ لیکویڈیٹی پولز میں اسٹیک کر رہے ہیں، تو رقم نکلوانے کی صورت میں، اگر آپ قیمت کی داخلی شرح سے دور چلے جاتے ہیں، تو آپ پول میں ڈپازٹ کردہ بعض ٹوکنز سے محروم ہو سکتے ہیں۔


میں DeFi پراجیکٹس کو کہاں تلاش کر سکتا ہوں؟

Ethereum ایک طویل عرصے سے DeFi کا روایتی گڑھ ہے۔ تاہم، اب اچھی کارکردگی کے حامل DeFi ایکو سسٹمز سے منتخب کرنے کے لیے بہت سی بلاک چینز موجود ہیں۔ اسمارٹ معاہدے کی صلاحیتوں کا حامل کوئی بھی نیٹ ورک DeFi کی DApps کو ہوسٹ کر سکتا ہے۔ BNB اسمارٹ چین ایک مقبول انتخاب ہے، جس کے ساتھ  Solana، Polkadot، اور Avalanche بھی موجود ہیں۔

پراجیکٹس اور DeFi پروٹوکولز تلاش کرنے کے لیے کچھ تحقیق کی ضرورت ہو گی۔ آن لائن فورمز، میسنجرز، اور ویب سائٹس نئے مواقع کے بارے میں جاننے کے لیے آپ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم، آپ کو حاصل ہونے والی کسی بھی قسم کی معلومات کے حوالے سے نہایت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمہ وقت محتاط رہیں اور اگر آپ کسی بھی پراجیکٹ کے بارے میں پڑھتے یا سنتے ہیں، تو دو مرتبہ اس کی جانچ پڑتال کو یقینی بنائیں۔


مجھے DeFi پراجیکٹس تک رسائی کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟

DeFi DApps سے مربوط ہونے کے لیے، آپ کو مندرجہ ذیل کی ضرورت ہو گی: 

ایک مطابقت پذیر والیٹ۔ کوئی MetaMask جیسا براؤزر ایکسٹینشن والیٹ یا ٹرسٹ والیٹ جیسا متحرک والیٹ یہ کام بخوبی انجام دے سکتا ہے۔ اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ کوئی تحویلی والیٹ (جہاں آپ نجی کلیدوں کے مالک نہیں ہوتے) آپ کو DApps سے مربوط ہونے کی اجازت دے۔

2. کرپٹو۔ یہ ایک ظاہری سی بات ہے، لیکن آپ کو مختلف اثاثہ جات درکار ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، BNB اسمارٹ چین پر کوئی بھی DApp استعمال کرتے ہوئے آپ کو اپنی گیس کی فیس ادا کرنے کے لیے BNB کی ضرورت ہو گی۔ Ethereum کے لیے Ether (ETH) کی ضرورت ہو گی۔ اگر آپ لیکویڈیٹی پولز کے ساتھ شروعات اور دستی طور پر اسٹیک کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو مساوی مالیت کے کوائنز کے ایک جوڑے کی ضرورت ہو گی۔

بنیادی سطح پر، آپ کو صرف انہی چیزوں کی ضرورت ہو گی۔ اگر اسے بذات خود سیٹ اپ کرتے ہوئے آپ کو اطمینان محسوس نہیں ہوتا، تو آپ ایک غیر مرکزی اکائی کے ذریعے DeFi کی بعض سروسز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم بعد ازاں کسی سیکشن میں مرکزی فنانس (CeFi) پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس پر گفتگو کریں گے۔


DeFi بمقابلہ روایتی فنانس

دلائل کی روشنی میں، DeFi اور روایتی فنانس کے درمیان سب سے بنیادی فرق رسائی کی صلاحیت کا ہے۔ کوئی بھی فرد ایک والیٹ تخلیق کر سکتا ہے اور اس وقت تک DeFi کی سروسز کا استعمال شروع کر سکتا ہے جب تک کہ ان کے پاس کچھ کرپٹو موجود ہو۔ اس میں کسی قسم کے سائن اپس یا شناختی توثیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ روایتی مالیاتی سروسز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے، اپنے کسٹمر کو جانیں (KYC) نامی تقاضوں کو مکمل کرنا اور دیگر شرائط کا پورا ہونا لازم ہے۔ یہ بنیادی فرق مالیاتی شمولیت کو بہتر بناتے ہوئے DeFi کو ایسے افراد کے لیے قابلِ رسائی بناتا ہے جن کے پاس بینک کی سہولت موجود نہیں۔

DeFi ایسی مالیاتی سروسز کی پیشکش بھی کرتا ہے جو روایتی دائرہ کار میں دستیاب نہیں ہیں۔ مختلف DeFi سروسز (جو بعض اوقات DeFi لیگوز بھی کہلاتی ہیں) کو لیئر کرتے ہوئے، ایسے نت نئے پراڈکٹس کو تخلیق کرنا بھی ممکن ہے جو متعدد پلیٹ فارمز سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ لچک پذیری ایسے اختراعی پراڈکٹس کی اجازت دیتی ہے جن کے لیے کوئی بھی شخص حکمت عملیاں ڈویلپ کر سکتا ہے۔


DeFi بمقابلہ مرکزی فنانس (CeFi)

کرپٹو کی دنیا میں بھی، ہر مالیاتی سروس غیر مرکزی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر، Binance جیسے مرکزی ایکسچینج کے ذریعے اسٹیکنگ کی صورت میں آپ سے اپنے ٹوکنز کی تحویل سے دستبردار ہونے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں، آپ کو اس مرکزی ادارے پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو آپ کے فنڈز کی لین دین کرتا ہے۔

پیشکش کردہ سروسز کی اکثریت یکساں ہو گی۔ یہ ممکنہ طور پر ان یکساں DeFi پلیٹ فارمز کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں جن تک صارف براہ راست رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم، یہ CeFi عام طور پر DeFi کی سرمایہ کاریوں کا ازخود نظم کرنے کے پیچیدہ تقاضے کو دور کر دیتا ہے۔ آپ کو اپنے ڈپازٹس پر اضافی ضمانتیں بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔

CeFi نہ تو DeFi سے بہتر ہے اور نہ ہی برا ہے۔ اس کی موزونیت کا دارومدار آپ کی خواہشات اور ضروریات پر ہے۔ اگرچہ CeFi میں کسی حد تک اختیار پر سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم اس میں آپ کو اکثر اس حوالے سے مضبوط ضمانتیں بھی ملتی ہیں اور اثاثوں کو سنبھالنے اور ٹرانزیکشنز انجام دینے کے حوالے سے بعض ذمہ داریاں بھی کم ہو جاتی ہیں۔


DeFi اور اوپن بینکنگ میں کیا فرق ہے؟

اوپن بینکنگ ایک ایسا بینکنگ سسٹم ہے جہاں مالیاتی سروس کے فریق ثالث فراہم کنندگان کو APIs کے ذریعے مالیاتی ڈیٹا تک محفوظ رسائی دی جاتی ہے۔ یہ بینکس اور غیر بینک مالیاتی اداروں کے درمیان اکاؤنٹس اور ڈیٹا کی نیٹ ورکنگ کو فعال کرتا ہے۔ بنیادی طور پر، یہ روایتی مالیاتی سسٹم کے اندر نئی پراڈکٹس اور سروسز کی اجازت دیتا ہے۔ 

تاہم، DeFi، مکمل طور پر نئے ایک ایسے مالیاتی سسٹم کی تجویز پیش کرتا ہے جو موجودہ بنیادی انفراسٹرکچر سے آزاد ہے۔ DeFi کو بعض اوقات اوپن فنانس بھی کہا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، اوپن بینکنگ، کئی بینکس اور اداروں میں موجود ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے نکلواتے ہوئے ایک ہی ایپلیکیشن میں تمام روایتی مالیاتی آلات کی نظم کاری کی اجازت دے سکتی ہے۔ 

دوسری جانب غیر مرکزی فنانس مکمل طور پر نئے مالیاتی آلات کی نظم کاری اور ان کے ساتھ تعامل انجام دینے کے نئے طریقوں کی اجازت دے سکتی ہے۔


اختتامی خیالات

غیر مرکزی فنانس ایسی مالیاتی سروسز تیار کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو روایتی مالیاتی اور سیاسی سسٹم سے الگ ہوں۔ یہ ایک مزید کھلے مالیاتی سسٹم کی اجازت دے گا اور دنیا بھر میں ہونے والی سنسرشپ، مالیاتی نگرانی، اور امتیازی سلوک جیسے واقعات کو ممکنہ طور پر روک سکتا ہے۔

اگرچہ غیرمرکزیت ایک دلکش احساس ضرور ہے، تاہم یہ ہر ایک کے لیے فائدہ مند نہیں۔ اوپن مالیاتی پراڈکٹس کا قیمتی مجموعہ بنانے کے لیے ان استعمال کی صورتوں کو تلاش کرنا ضروری ہے جو بلاک چینز کی خصوصیات کے لیے موزوں ترین ہوں۔

کامیاب ہونے کی صورت میں، DeFi بڑی مرکزی تنظیموں سے اختیار واپس لے کر اسے اوپن سورس کمیونٹی اور افراد کے ہاتھ میں دے سکتا ہے۔ ایک مرتبہ DeFi کے بڑے پیمانے پر مقبولیت کے لیے تیار ہو جانے کے بعد، اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اس کے نتیجے میں ایک مزید موثر مالیاتی سسٹم بن سکتا ہے۔